خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 33

خلافة على منهاج النبوة ۳۳ جلد دوم تھے جو جذ بات کو دبانے کے عادی نہیں اس لئے ان میں ایک بے چینی سی تھی اور وہ بھاگ رہے تھے اور یہ نظارہ میرے لئے تکلیف دہ تھا اور اس وجہ سے وہ کیفیت دُور ہو گئی۔گواب میں اگر اسی مضمون کو بیان کرنا شروع کر دوں تو وہ بٹن پھر دب جائے گا مگر پہلے جو کچھ میرے ذہن میں تھا وہ اب یاد نہیں آسکتا۔بہر حال مجھے کچھ کہنا چاہیئے اور اس کا رروائی کے متعلق جہاں تک دنیوی عقل کا تعلق ہے میں اب بھی بیان کرسکتا ہوں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ہر ایک نمائندہ نے وعدہ کیا تھا کہ تین منٹ کے اندر اندر اپنا ایڈریس ختم کر دے گا لیکن سوائے اس ایڈریس کے جو ہندوستان کی جماعتوں کی طرف سے پیش کیا گیا اور کسی نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔پھر وہ جس طرح پیش کیا گیا ہے اس میں حقیقی اسلامی سادگی کا نمونہ نظر آتا ہے اور اس لئے میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔محض چھاپ لینے کو میں سادگی کے خلاف نہیں سمجھتا۔باقی جو ایڈریس پیش کئے گئے ہیں ان میں سادگی کوملحوظ نہیں رکھا گیا۔حقیقی سادگی وہ ہوتی ہے جسے انسان ہر جگہ اور ہمیشہ نباہ سکے اور اس کی قدر دانی کے طور پر میں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ اِن کا سارا ایڈریس پڑھوں گا۔جب سے یہ خلافت جو بلی کی تحریک شروع ہوئی ہے میری طبیعت میں ہمیشہ ایک پہلو سے انقباض سا رہتا آیا ہے اور میں سوچتا رہا ہوں کہ جب ہم خود یہ تقریب منا ئیں تو پھر جو لوگ برتھ ڈے یا ایسی دیگر تقاریب مناتے ہیں اُنہیں کس طرح روک سکیں گے۔اب تک اس کے لئے کوئی دلیل میری سمجھ میں نہیں آ سکی اور میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں ایسی رسوم جماعت میں پیدا نہ ہو جائیں جن کو مٹانے کے لئے احمدیت آئی ہے۔ہماری کامیابی اور فتح یہی ہے کہ ہم دین کو اُسی طرح دوبارہ قائم کر دیں جس طرح رسول کریم ﷺ اسے لائے تھے اور ایسے رنگ میں قائم کر دیں کہ شیطان اس پر حملہ نہ کر سکے اور کوئی کھڑ کی ، کوئی روشن دان اور کوئی ڈر اس کے لئے گھلا نہ رہنے دیں۔اور جب سے یہ تقریب منانے کی تحریک شروع ہوئی ہے میں یہی سوچتا رہا ہوں کہ ایسا کرتے ہوئے ہم کوئی ایسا روشن دان تو نہیں کھول رہے کہ جس سے شیطان کو حملہ کا موقع مل سکے اور اس لحاظ سے مجھے شروع سے ہی