خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 469
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۹ جلد دوم جو تمام نبیوں سے افضل تھے اور حضرت نوح بھی ان میں شامل تھے پس اگر نوح کو ساڑھے نوسو سال عمر ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو ساڑھے نو ہزار سال عمر ملنی چاہیے اور اس عرصہ تک ہماری جماعت کو اپنی تبلیغی کوششیں وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانا چاہیے۔میں اس موقع پر وکالت تبشیر کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بیرونی مشنوں کی رپورٹیں با قاعدگی کے ساتھ شائع کیا کریں تا کہ جماعت کو یہ پتہ لگتا رہے کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی اشاعت کے لئے کیا کیا کوششیں ہو رہی ہیں اور نوجوانوں کے دلوں میں اسلام کیلئے زندگیاں وقف کرنے کا شوق پیدا ہو۔مگر جہاں یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام ضروری ہے وہاں پاکستان اور ہندوستان میں اصلاح و ارشاد کے کام کو وسیع کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے جس سے ہمیں کبھی غفلت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔دنیا میں کوئی درخت سرسبز نہیں ہو سکتا جس کی جڑیں مضبوط نہ ہوں پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان اور ہندوستان میں بھی جماعت کو مضبوط کرنے کی کوششیں کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی ہے جس کا تنا مضبوط ہو اور اس کے نتیجے میں اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں یعنی ایک طرف تو سچے مذہب کے پیرو اپنی کثرت تعداد کے لحاظ سے ساری دنیا میں پھیل جائیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ اس کے ماننے والوں کو اتنی برکت دے کہ آسمان تک ان کی شاخیں پہنچ جائیں یعنی ان کی دعائیں کثرت کے ساتھ قبول ہونے لگیں اور ان پر آسمانی انوار اور برکات کا نزول ہو۔یہی فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ لے کے معنی ہیں۔کیونکہ جو شخص آسمان پر جائے گا وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائے گا اور چونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی جسمانی وجود نہیں اس لئے اس کے قریب ہونے کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی دعائیں سنے گا۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ مومن جب رات کو تہجد کے وقت دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کی قبولیت کیلئے آسمان سے اتر آتا ہے۔پس ضروری ہے کہ تمام جماعت کے اندر ایسا اخلاص پیدا ہو کہ اس کی دعائیں