خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 468

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۸ جلد دوم ہے کہ:۔پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس دعا اور خواہش کو پورا کرنے کیلئے جد و جہد کرنا آپ لوگوں میں سے ہر ایک پر فرض ہے اور آپ لوگوں کو یہ جد وجہد ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ قیامت تک جد و جہد کرنا صرف ایک خیالی بات ہے بلکہ حقیقتا یہ آپ لوگوں کا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عائد کیا گیا ہے کہ قیامت تک آپ لوگ اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند رکھیں۔یہاں تک کہ دنیا میں اسلام اور احمدیت عیسائیت سے بہت زیادہ پھیل جائے اور تمام دنیا کی بادشاہتیں اسلام اور احمدیت کے تابع ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ مجھے ایک دفعہ عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور جن میں سے بعض ہندوستان کے تھے ، بعض عرب کے ، بعض فارس کے ، بعض شام کے بعض روم کے اور بعض دوسرے ممالک کے اور مجھے بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کریں گے اور تجھ پر ایمان لائیں گے۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور ان پیشگوئیوں کے مطابق روس، جرمنی ، امریکہ اور انگلستان کے بادشاہ یا پریذیڈنٹ احمدی ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی اور اسلام کے مقابلہ میں باقی تمام مذاہب بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آجکل دنیا کے اکثر ممالک میں بادشاہتیں ختم ہو چکی ہیں مگر پریذیڈنٹ بھی بادشاہوں کے ہی قائمقام ہیں پس اگر مختلف ملکوں کے پریذیڈنٹ ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں تو یہ پیشگوئی پوری ہو جاتی ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ متواتر اور مسلسل جد و جہد کی جائے اور تبلیغ اسلام کا کام ہمیشہ جاری رکھا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوح بھی قراد دیا گیا ہے اور حضرت نوع کی عمر جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے ساڑھے نو سو سال تھی جو درحقیقت ان کے سلسلہ کی عمر تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز تھے