خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 463

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۳ جلد دوم ہوں اس سے تم خوش ہو جاؤ گے۔وہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب اپنی عمر کا آخری حج کیا تو اُس وقت آپ کو یہ اطلاع ملی کہ کسی نے کہا ہے حضرت ابو بکر کی خلافت تو اچانک ہو گئی تھی یعنی حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبید نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔پس صرف ایک یا دو بیعت کر لیں تو کافی ہو جاتا ہے اور وہ شخص خلیفہ ہو جاتا ہے اور ہمیں خدا کی قسم اگر حضرت عمر فوت ہو گئے تو ہم صرف فلاں شخص کی بیعت کریں گے اور کسی کی نہیں کریں گے۔2 جس طرح غلام رسول نمبر ۳۵ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ خلیفہ ثانی فوت ہو گئے تو ہم صرف عبدالمنان کی بیعت کریں گے۔دیکھ لو یہ بھی حضرت عمرؓ سے مشابہت ہو گئی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی ایک شخص نے قسم کھائی تھی کہ ہم اور کسی کی بیعت نہیں کریں گے فلاں شخص کی کریں گے۔اس وقت بھی غلام رسول ۳۵ اور اس کے بعض ساتھیوں نے یہی کہا ہے۔جب حضرت عمرؓ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے یہ نہیں کیا جیسے مولوی علی محمد اجمیری نے شائع کیا تھا کہ آپ پانچ وکیلوں کا ایک کمیشن مقرر کریں جو تحقیقات کرے کہ بات کونسی سچی ہے۔حضرت عمرؓ نے ایک وکیل کا بھی کمیشن مقر ر نہیں کیا اور کہا میں کھڑے ہو کر اس کی تردید کروں گا۔بڑے بڑے صحابہ اُن کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا۔حضور ! یہ حج کا وقت ہے اور چاروں طرف سے لوگ آئے ہوئے ہیں ان میں بہت سے جاہل بھی ہیں ان کے سامنے اگر آپ بیان کریں گے تو نہ معلوم کیا کیا باتیں باہر مشہور کریں گے جب مدینہ میں جائیں تو پھر بیان کریں۔چنانچہ جب حضرت عمرؓ حج سے واپس آئے تو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہو کر کہا کہ اے لوگو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کسی نے کہا ہے کہ ابو بکر کی بیعت تو ایک اچانک واقعہ تھا اب اگر عمر مر جائے تو ہم سوائے فلاں شخص کے کسی کی بیعت نہیں کریں گے پس کان کھول کر سن لو کہ جس نے یہ کہا تھا کہ ابوبکر کی بیعت اچانک ہو گئی تھی اُس نے ٹھیک کہا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس جلد بازی کے فعل کے نتیجہ سے بچا لیا اور یہ بھی یاد رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص ابو بکڑ کی مانند نہیں جس کی طرف لوگ ڈور ڈور سے دین اور روحانیت سیکھنے کے لئے آتے تھے۔پس اس وہم میں نہ پڑو کہ ایک دو آدمیوں کی بیعت سے بیعت ہو جاتی ہے اور آدمی خلیفہ بن جاتا ہے کیونکہ اگر جمہور