خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 462
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۲ جلد دوم کر رہا ہے۔یہ اعلان کر دیں کہ پیغامی جھوٹے ہیں۔ہمارا پچھلا میں سالہ تجربہ ہے کہ پیغامی ہتک کرتے چلے آئے ہیں اور مبائعین نہیں کرتے رہے۔مبائعین صرف دفاع کرتے رہے ہیں مگر باوجود اس کے ان کو توفیق نہیں ملی اور یوں معافی نامے چھاپ رہے ہیں۔ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ اعلان کیا تو ہمارا اڈہ جو غیر مبائعین کا ہے اور ہمارا اڈہ جو احراریوں کا ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔سواگر اڈہ بنانے کی فکر نہ ہوتی تو کیوں نہ یہ اعلان کرتے مگر یہ اعلان کبھی نہیں کیا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے سنایا کہ عبدالمنان نے اُن سے کہا ہم اس لئے لکھ کر نہیں بھیجتے کہ پھر جرح ہوگی کہ یہ لفظ کیوں نہیں لکھا وہ لفظ کیوں نہیں لکھا حالانکہ اگر دیانتداری ہے تو بیشک جرح ہو حرج کیا ہے۔جو شخص حق کے اظہار میں جرح سے ڈرتا ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ حق کو چھپانا چاہتا ہے اور حق کے قائم ہونے کے مخالف ہے۔غرض جب تک شوری میں معاملہ پیش ہونے کے بعد میں اور فیصلہ نہ کروں اوپر کا فیصلہ جاری رہے گا۔تمہیں خوشی ہو کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت چلی تھی واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارے اندر بھی اُسی طرح چلے گی۔مثلاً حضرت ابو بکر کے بعد حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔میرا نام عمر نہیں بلکہ محمود ہے مگر خدا کے الہام میں میرا نام فضل عمر رکھا گیا اور اُس نے مجھے دوسرا خلیفہ بنا دیا۔جس کے معنی یہ تھے کہ یہ خدا ئی فعل تھا۔خدا چاہتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خلافت بالکل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی خلافت کی طرح ہو۔میں جب خلیفہ ہوا ہوں تو ہزارہ سے ایک شخص آیا اُس نے کہا کہ میں نے خواب دیکھی تھی کہ میں حضرت عمر کی بیعت کر رہا ہوں تو جب میں آیا تو آپ کی شکل مجھے نظر آئی اور دوسرے میں نے حضرت عمرؓ کو خواب میں دیکھا کہ اُن کے بائیں طرف سر پر ایک داغ تھا۔میں جب انتظار کرتا ہوا کھڑا رہا۔آپ نے سر کھجلایا اور پگڑی اُٹھائی تو دیکھا کہ وہ داغ موجود تھا اس لئے میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔پھر ہم نے تاریخیں نکالیں تو تاریخوں میں بھی مل گیا کہ حضرت عمرؓ کو بائیں طرف خارش ہوئی تھی اور سر میں داغ پڑ گیا تھا سو نام کی تشبیہ بھی ہوگئی اور شکل کی تشبیہ بھی ہو گئی۔مگر ایک تشبیہ نئی نکلی ہے وہ میں تمہیں بتا تا