خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 455

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۵ جلد دوم بیان کروں گا آئندہ خلافت کے لئے میں یہ قاعدہ منسوخ کرتا ہوں کہ شوری انتخاب کرے بلکہ میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ آئندہ جب کبھی خلافت کے انتخاب کا وقت آئے تو صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اور ممبر اور تحریک جدید کے وکلاء اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے زندہ افراد اور اب نظر ثانی کرتے وقت میں یہ بات بھی بعض دوستوں کے مشورہ سے زائد کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ بھی جن کو فوراً بعد تحقیقات صدر انجمن احمدیہ کو چاہیے کہ صحابیت کا سرٹیفکیٹ دے دے اور جامعتہ المبشرین کے پرنسپل اور جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ اور تمام جماعتہائے پنجاب اور سندھ کے ضلعوں کے امیر اور مغربی پاکستان اور کراچی کا امیر اور مشرقی پاکستان کا امیر مل کر اس کا انتخاب کریں۔اسی طرح نظر ثانی کرتے وقت میں یہ امر بھی بڑھاتا ہوں کہ ایسے سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہے ہوں گو انتخاب کے وقت بوجہ معذوری کے امیر نہ رہے ہوں وہ بھی اس لسٹ میں شامل کئے جائیں۔اسی طرح ایسے تمام مبلغ جو ایک سال تک غیر ملک میں کام کر آئے ہیں اور بعد میں سلسلہ کی طرف سے اُن پر کوئی الزام نہ آیا ہو۔ایسے مبلغوں کی لسٹ شائع کرنا مجلس تحریک کا کام ہوگا۔اسی طرح ایسے مبلغ جنہوں نے پاکستان کے کسی ضلع یا صو بہ میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم سے کم ایک سال کام کیا ہو۔ان کی فہرست بنانا صدرانجمن احمد یہ کے ذمہ ہوگا۔مگر شرط یہ ہوگی کہ اگر وہ موقع پر پہنچ جائیں۔سیکرٹری شوری تمام ملک میں اطلاع دے دے کہ فوراً پہنچ جاؤ۔اس کے بعد جو نہ پہنچے اس کا اپنا قصور ہو گا اور اس کی غیر حاضری خلافت کے انتخاب پر اثر انداز نہیں ہو گی۔نہ یہ عذر سنا جائے گا کہ وقت پر اطلاع شائع نہیں ہوئی۔یہ ان کا اپنام کام ہے کہ وہ پہنچیں۔سیکرٹری شوری کا کام اُن کو لا نا نہیں ہے اس کا کام صرف یہ ہو گا کہ وہ ایک اعلان کر دے اور اگر سیکرٹری شوری کہے کہ میں نے اعلان کر دیا تھا تو وہ انتخاب جائز سمجھا جائے گا۔ان لوگوں کا یہ کہہ دینا یا ان میں سے کسی کا یہ کہہ دینا کہ مجھے اطلاع نہیں پہنچ سکی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی نہ قانوناً نہ شرعا۔یہ سب لوگ مل کر جو فیصلہ