خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 448

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۸ جلد دوم جاری کریں گے جو ہم نے اُن کے لئے پسند کیا ہے یعنی جو ایمان اور عقیدہ ان کا ہے وہی خدا کو پسند یدہ ہے اور اللہ تعالٰی وعدہ کرتا ہے کہ وہ اسی عقیدہ اور طریق کو دنیا میں جاری رکھے گا اور اگر اُن پر کوئی خوف آیا تو ہم اس کو تبدیل کر کے امن کی حالت لے آئیں گے۔لیکن ہم بھی اُن سے امید کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ تو حید کو دنیا میں قائم کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔یعنی مشرک مذاہب کی تردید کرتے رہیں گے اور اسلام کی ، توحید حقہ کی اشاعت کرتے رہیں گے۔خلافت کے قائم ہونے کے بعد خلافت پر ایمان لانے والے لوگوں نے خلافت کو ضائع کر دیا تو فرماتا ہے مجھ پر الزام نہیں ہوگا۔اس لئے کہ میں نے ایک وعدہ کیا ہے اور شرطیہ وعدہ کیا ہے۔اس خلافت کے ضائع ہونے پر الزام تم پر ہوگا۔میں اگر پیشگوئی کرتا تو مجھ پر الزام ہوتا کہ میری پیشگوئی جھوٹی نکلی مگر میں نے پیشگوئی نہیں کی بلکہ میں نے تم سے وعدہ کیا ہے اور شرطیہ وعدہ کیا ہے کہ اگر تم مومن بالخلافہ ہو گے اور اس کے مطابق عمل کرو گے تو پھر میں خلافت کو تم میں قائم رکھوں گا۔پس اگر خلافت تمہارے ہاتھوں سے نکل گئی تو یا درکھو کہ تم مومن بالخلافۃ نہیں رہو گے کا فر بالخلافہ ہو جاؤ گے اور نہ صرف خلفاء کی اطاعت سے نکل جاؤ گے بلکہ میری اطاعت سے بھی نکل جاؤ گے اور میرے بھی باغی بن جاؤ گے۔خلافت حقہ اسلامیہ کے عنوان کی وجہ میں نے اس مضمون کا ہیڈنگ خلافت حقہ اسلامیہ اس لئے رکھا ہے کہ جس طرح موسوی زمانہ میں خلافتِ موسویہ یہود یہ دو حصوں میں تقسیم تھی ، ایک دور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک تھا اور ایک دور حضرت عیسی علیہ السلام سے لے کر آج تک چلا آ رہا ہے۔اسی طرح اسلام میں بھی خلافت کے دو دور ہیں ، ایک دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شروع ہوا اور اُس کی ظاہری شکل حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ختم ہو گئی اور دوسرا دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول سے شروع ہوا اور اگر آپ لوگوں میں ایمان اور عمل صالح قائم رہا اور خلافت سے وابستگی پختہ رہی تو اِنْشَاءَ اللهُ یہ دور قیامت تک قائم رہے گا۔