خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 435

خلافة على منهاج النبوة ۴۳۵ جلد دوم دیتے ہیں کہ :۔عرصہ قریباً اڑھائی تین ماہ کا ہوا ہے کہ ایک دن خاکسار ملک حفیظ الرحمن صاحب واقف زندگی نقشہ نویس ( جو حضرت خلیفہ اول کے رضاعی رشتہ دار ہیں اس لئے ان کے بھی رشتہ دار ہیں ) کے کوارٹر پر ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا میڈیم کوارٹر تحریک جدید جو میاں عبدالمنان صاحب کی زیر نگرانی تعمیر ہورہا تھا کے خلاف نقشہ تعمیر ہونے پر بات ہوئی۔حفیظ صاحب نے بتایا کہ میاں صاحب موصوف ان کے پاس جی ٹی پی بائی لاز پر مشورہ کرنے آئے تھے اسی طرح تعمیر کی اور باتیں بھی ہوئیں پھر حفیظ صاحب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چند روز ہوئے میاں عبد الرحیم احمد صاحب کی کوٹھی پر ایک دعوت تھی اس میں ہمارے خاندان کے حضرت خلیفہ اول کے خاندان سے تعلقات کی بناء پر میں بھی مدعو تھا۔ڈاکٹر عبد الحق صاحب اور میاں نعیم احمد صاحب بھی شامل تھے میاں عبدالمنان صاحب مجھے مخاطب کر کے باتیں کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ کہتے کیا حفیظ صاحب ایسا نہیں ، کیا حفیظ صاحب ایسا نہیں ؟ ( یعنی خلاف باتیں کرتے تھے ) میاں عبدالرحیم احمد صاحب کبھی آتے اور کبھی جاتے تھے جب آتے تو میاں عبدالمنان صاحب کو مخاطب کر کے کہتے ”میاں صاحب اس شریف آدمی کا ایمان کیوں خراب کرتے ہیں یہ باتیں حفیظ صاحب نے بیان کرنے کے بعد خاکسار کو کہا ” چوہدری صاحب آپ اپنی نمازوں میں سلسلہ کی ترقی کے لئے خاص طور پر دعائیں کیا کریں آئندہ آنے والے ایام مجھے بہت خطرناک نظر آرہے ہیں۔میرے پوچھنے پر کہ میاں عبد المنان صاحب کیا باتیں کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ وہ باتیں بتانے والی نہیں بہت خطر ناک ہیں“۔اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی سفارش سے میاں عبدالمنان صاحب کو امریکہ جانے کا موقع ملا اور اس پروپیگنڈا نے اور شدت پکڑ لی اور یہ کہا جانے لگا کہ ساری جماعت میں میاں عبدالمنان جیسا کوئی لائق آدمی نہیں انہوں نے مسند احمد کی تبویب جیسا عظیم الشان کام کیا ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تبویب کا ایک حصہ خود حضرت خلیفہ اول نے کیا ہوا تھا اور اُن کا قلمی نسخہ لائبریری میں موجود تھا۔۵ جون ۱۹۵۰ء کو مولوی عبد المنان صاحب -