خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 434
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۴ جلد دوم رہا ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ دونوں دستخط حضرت میاں منور احمد صاحب کے ہیں گو ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا لیکن دستخط انہی کے ہیں چونکہ اس کا مضمون ذرا مطابق قواعد مقرر الفاظ میں تھا اور زیادہ تر بحث مولوی عبد المنان صاحب کے مضمون پر تھی غصہ سے بھرے ہوئے الفاظ میں آپ تقریر فرماتے رہے آخر میں ان کے منہ سے حسب ذیل الفاظ ظا ہر ہوئے :۔میاں منور احمد وغیرہ اس لئے سختی کرتے ہیں اور نا جائز کرتے ہیں کہ وہ حضرت صاحب کے لڑکے ہیں یعنی خلیفہ صاحب کے۔جس وقت ڈنڈا میرے ہاتھ میں آیا میں سب کو سیدھا کر دوں گا یا دیکھوں گا“ اُس وقت بندہ خاموش ہو کر واپس چلا آیا کیونکہ میاں صاحب بہت غصے میں تھے بندہ نے اسے Serious نہیں لیا البتہ جب دفتر کمیٹی میں پہنچا تو وہاں چوہدری عبداللطیف صاحب اوورسیئر اور چوہدری عنایت احمد صاحب اکاؤنٹینٹ و محمد الیاس چپڑاسی موجود تھے میں نے ہنسی کے طور پر چوہدری عبد اللطیف صاحب اوورسیئر سے کہا کہ آپ نے میاں عبدالمنان صاحب سے ٹکر لی ہے اب خبر دار ہو جاؤ وہ آپ سب کو سیدھا کر دیں گے کیونکہ وہ خلافت کے خواب دیکھ رہے ہیں (میں نے ان کے الفاظ سے یہی مفہوم سمجھا تھا کہ وہ خلافت کے خواب دیکھ رہے ہیں ) چنانچہ اُس وقت یہ بات ہنسی مذاق میں آئی گئی ہو گئی اب ہنگامی واقعات کی رونمائی پر چوہدری عنایت احمد اور چوہدری عبد اللطیف صاحب نے مجھ سے کہا لو بھائی تمہارا بیان کس قدر حقیقت کا انکشاف کر رہا تھا اب ہم تمہارے بیان کو جو آج سے چار ماہ قبل تم نے ظاہر کیا تھا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں پیش کرنے لگے ہیں۔میں نے کہا بے شک کوئی بات نہیں میں نے سچی بات کہی تھی جو سنی تھی مجھے الہام تو ہوا نہیں تھا کہ چار ماہ بعد کیا واقعہ پیش آنے والا ہے۔“ 66 خاکسار غلام غوث ۱۹۵۶ء۔۸۔۹ چوہدری عبد اللطیف صاحب اوور سیئر کی شہادت چوہدری عبداللطیف صاحب اوورسئیر بھی گواہی