خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 413

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۳ جلد دوم کہا کہ اب تو لاہوریوں کی نظر حضرت خلیفہ اول کی اولاد پر زیادہ پڑتی ہے اور وہ میاں عبد المنان صاحب کی زیادہ تعریف کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک وہ زیادہ قابل ہیں۔۵ چنا نچہ ”پیغام صلح کی تائید سے بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ بات سچ ہے اسی طرح عنایت اللہ صاحب انسپکٹر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ لکھتے ہیں ڈاکٹر محمد شفیع صاحب نثار پریڈیڈنٹ جماعت احمد یہ طالب آباد نے بتایا کہ آج سے دو سال قبل گوٹھ رحمت علی تھل برانچ پر مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی ( یہ حضرت خلیفہ اوّل کے نواسے اور عبد الوہاب اور عبد المنان کے بھانجے ہیں ) کے ایک پروردہ شخص بشیر احمد نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی خلافت کا حق مولوی نور الدین صاحب کے بعد ان کی اولاد کا تھا لیکن میاں محمود احمد صاحب نے ( نَعُوذُ بِاللهِ ( ظلم سے ان کا حق غصب کر کے خلافت پر قبضہ کر لیا ہے۔اب ہم لوگ ( یعنی خاندان حضرت خلیفہ اول اور ان کے غیر احمدی رشتہ دار ) اس کوشش میں ہیں کہ خلافت کی گدی مولوی صاحب کی اولا د کو ملے اور اب حق بحقدار رسید کے مطابق جلد ہی یہ معاملہ طے ہو کر رہے گا۔۲۶ یعنی حق حضرت خلیفہ اول کا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد نے خواہ مخواہ بیچ میں دخل دے دیا۔چنانچہ ہمارے پاس بعض ٹریکٹ ایسے پہنچے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے غیر احمدی رشتہ داروں نے مختلف کارٹونوں کے ذریعہ سے اس کے لئے پرو پیگنڈا بھی شروع کر دیا ہے اور یہ اشتہارات کثرت کے ساتھ جماعت میں شائع کئے جائیں گے۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ایک ٹریکٹ چالیس ہزار چھپا ہے اور کثرت سے ایسے ٹریکٹ جماعت میں شائع کئے جائیں گئے“۔مہاشہ محمد عمر صاحب کی شہادت مباشہ محمد عمر صاحب کی رپورٹ بھی اس کی جا رہی ہے وہ کہتے ہیں۔تائید کر رہی ہے کہ اب تک مخالفت بڑھائی میں بتاریخ ۱۹۵۶ء۔۱۲۔۲۴ کو جلسہ سالانہ کے لئے ڈھاکہ سے ربوہ آ رہا تھا جب میں امرتسر ریلوے اسٹیشن پر گاڑی سے اُترا تو ایک نوجوان مجھے ملا۔اُس نے کہا کیا آپ