خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 412
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۲ جلد دوم گیا۔اُس وقت نہ ہمیں معلوم تھا کہ عبد الباسط بھی کمیونسٹ اثر کے نیچے ہے اور نہ ہم اس کے لئے کوئی کوشش کر سکتے تھے کیونکہ وہ لائلپور میں پڑھتا تھا اور لائکپور کالج کے کمیونسٹ لڑکوں سے ملا کرتا تھا اور ہماری حفاظت سے باہر تھا۔پھر یہ مخالفت اتنی لمبی کی گئی کہ ۱۹۵۰ء۔۱۹۵۱ء کی گواہیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں عبدالمنان کی خلافت کا پرو پیگنڈ ا شروع کر دیا گیا۔چنانچہ عزیزہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی محمد صادق صاحب مبلغ سیرالیون جو محبوب علی صاحب مرحوم آف مالیر کوٹلہ کی دختر میں لکھتی ہیں کہ :۔’۱۹۵۰ء یا ۱۹۵۱ء کا واقعہ ہے کہ میرا خالہ زاد بھائی منور شاہ ولد فضل شاہ (ساکن نواں پنڈ احمد آباد مضافات قادیان کا ہے اور اس وقت گوٹھ لالہ چرنجی لال نمبر ۳۸۵ تحصیل میر پور خاص تھر پارکر سندھ میں رہائش رکھتا ہے) انہی دنوں میں یعنی ۱۹۵۰ء۔۱۹۵۱ء میں جب کہ مرزا شریف احمد صاحب کی دکان بندوقوں والی میں ملازم تھا ربوہ میں میرے پاس ملنے کو آیا۔اتفاقاً ایک دن باتوں باتوں میں یہ ذکر کیا کہ ایک گروہ نو جوانوں کا ایسا ہے جو کہتا ہے کہ موجودہ خلیفہ کے بعد اگر خلافت پر مرزا ناصر احمد صاحب کو جماعت نے بٹھایا تو ہماری پارٹی میں سے کوئی بھی اُسے نہیں مانے گا۔ہم تو میاں عبدالمنان صاحب عمر کو خلیفہ مانیں گے۔میں نے اسے بُرا منایا اور جھڑک کر کہا کہ وہ خبیث کون کون ہیں۔اس پر غصے میں آکر کہنے لگا کہ دیکھنا اُس وقت تم لوگوں کا ایمان بھی قائم نہیں رہے گا۔یہ کہہ کر اُسی وقت وہ میرے گھر سے باہر چلا گیا میں اس کی وجہ سے دل میں کڑھتی رہی مگر سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس کا ذکر حضور سے کیونکر کروں۔اب حضور کا ارشاد پڑھ کر میں نے یہ بیان مولوی عبد اللطیف صاحب بہاولپوری کو لکھوا دیا میں خدا کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ کہتی ہوں کہ یہ بیان صحیح ہے الفاظ میں کمی بیش ہو تو الگ امر ہے مگر مفہوم یہی تھا۔۲۳ اسی طرح چوہدری بشارت احمد صاحب لاہور کی گواہی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ غلام رسول ۳۵ نے بھی یہی کہا کہ ہم تو میاں عبد المنان صاحب عمر کی بیعت کریں گے۔۲۴ اور مولوی محمد صدیق صاحب شاہد مربی سلسلہ راولپنڈی کی بھی یہی گواہی ہے کہ اللہ رکھانے