خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 411

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۱ جلد دوم صاحب، ڈاکٹر چوہدری عبد الاحد صاحب اور شیخ عبد القادر صاحب مربی لاہور کی گواہیاں میرے پاس بھیجوا دی ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ تحقیقات ہوئی اور پولیس بھی آئی اور پھر سارا واقعہ لکھا کہ اس طرح وہ کمیونسٹ دوستوں کے پاس سے آیا اور کہنے لگا میں ذرا غسل خانہ میں جانا چاہتا ہوں وہاں گیا تو تھوڑی دیر کے بعد ہم کو آواز آئی ہم نے جب جھانکا تو دیکھا کہ زمین پر گرا پڑا تھا اور قے کی ہوئی تھی۔پھر ہم نے اس کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے رقعہ نکلا کہ میں نے خود زہر کھایا ہے کسی پر الزام نہ لگایا جائے۔چنانچہ وہ رقعہ پولیس میں دیا گیا۔اس نے تحقیقات کی اور میونسپل کمیٹی نے سرٹیفکیٹ دے دیا کہ سو سائڈ (SUICIDE) ہے دفن کر دیا جائے اس وجہ سے پولیس نے کوئی مزید کا رروائی نہ کی۔خلیل کا واقعہ ستمبر ۱۹۴۱ء کا ہے۔۱۹۴۱ء میں بعض احراریوں نے کمیونسٹوں سے مل کر خلیل احمد کو کمیونسٹ لٹریچر بھیجنا شروع کیا اور دوسری طرف گورنمنٹ کو اطلاع دی کہ اس کے پاس کمیونسٹ لٹریچر آتا ہے اور یہ کمیونسٹ ہے۔مجھے اس سازش کا پتہ لگ گیا اور میں نے فوراً ڈاکخانہ کو لکھ دیا کہ خلیل کی ڈاک مجھے دی جایا کرے خلیل کو نہ دی جایا کرے۔میری غرض یہ تھی کہ یہ الزام نہ لگائیں کہ ڈاک کے ذریعہ اس کے پاس لٹر پچر آتا ہے جب وہ لٹریچر میرے پاس آئے گا تو میں اسے تلف کر دوں گا اور گورنمنٹ کو کوئی بہانہ نہیں ملے گا۔پولیس نے پھر بھی شرارت کی اور اس کے بعد جب میں ڈلہوزی گیا تو وہاں ڈاکیہ کو ساتھ ملا کر ایک بیرنگ پیکٹ خلیل کو دلوا دیا چونکہ میں نے اُسے منع کیا تھا وہ فوراً میرے پاس لے آیا اور میں نے وہ درد صاحب کے سپرد کیا اور درد صاحب کے ہاتھ سے پولیس سب انسپکٹر چھین کر لے گیا۔میں نے فوراً گورنر کو تار دلا دیا کہ اس طرح پولیس آئی ہے اور درد صاحب کے ہاتھ سے ایک پیکٹ چھین کر لے گئی ہے ہمیں نہیں پتہ اس میں کیا ہے مگر اس کا منشا یہ ہے کہ خلیل کو زیر الزام لائے کیونکہ وہ خلیل کے نام آیا تھا۔اس پر گورنمنٹ نے تحقیقات کی اور پولیس کی شرارت اس پر ظاہر ہوگئی اور وہ ہیڈ کانسٹیبل جو اُس وقت بطور سب انسپکٹر کام کر رہا تھا اُس کو ڈی گریڈ کیا گیا اور ڈلہوزی سے بدل کر شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے تھا نہ میں بھیج دیا