خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 410

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۰ جلد دوم ہوئی جبکہ ہمارا تعارف چوہدری ہدا یت اللہ صاحب پریذیڈنٹ جماعت کنڈیارو نے کرایا۔اس سے پہلے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے لڑکوں کے نام تو جانتا تھا مگر ان میں سے میرا کوئی واقف نہ تھا۔اس دوران میں مولوی صاحب موصوف اس قسم کی باتیں کرتے رہے جس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے موجودہ نظام سے دلچسپی نہیں ہے ( یہ تو ظاہر ہی ہے۔مگر میاں بشیر احمد صاحب کو مولوی عبد السلام صاحب کا بیٹا خود کہہ گیا ہے کہ میں خلافت سے بدظن ہوں اور کہہ گیا ہے کہ آپ تو بڑھے ہوگئے ہیں آپ کے ساتھ تو مستقبل کوئی نہیں میں جو ان آدمی ہوں میرے سامنے بڑا مستقبل ہے میں نے اس کی فکر کرنی ہے گویا وہ بھی خلافت کا خواب دیکھ رہا ہے۔) سید !۔۔۔غالبا سب سے پہلے ایسی بات جو مولوی صاحب موصوف نے مجھ سے کی وہ ی تھی کہ میرا بڑا لڑکا جو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا وہ دراصل مرزا خلیل احمد کی وجہ سے ہوا تھا کیونکہ وہ دونوں کمیونسٹ ہو چکے تھے۔حضرت صاحب نے اپنے لڑکے کو بچالیا اور مجھے یہ کہہ کر کہ اب اگر تم کیس کرو گے تو مسیح موعود کے خاندان کی بے عزتی ہوگی حالانکہ میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے مجھے بہت کہا تھا کہ کیس کرو مگر میں نے اس واسطے نہیں کیا کہ مجھے حضرت صاحب نے بلا کر منع کیا تھا ( جھوٹ ہے لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ) بہر حال میرالڑکا ( یعنی عبد السلام کا حضرت خلیفہ اول کا پوتا مسیح موعود کے پوتے کیلئے قربان ہو گیا۔اس دوران میں مولوی صاحب نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ جس وقت یہ کیسی ہوا اُس وقت خلیل کی الماری اشترا کی لٹریچر سے بھری ہوئی تھی جس کو خود حضرت صاحب نے جلا یا ( یہ بھی جھوٹ ہے البتہ یہ ٹھیک ہے کہ بعض کمیونسٹ جو ہمارے دشمن تھے انہوں نے خلیل کے نام کمیونسٹ لٹریچر بھیجنا شروع کر دیا تھا۔) میں نے مولوی صاحب سے جواباً کہا ” مجھے یہ علم نہیں نہ حضور کے علم میں یہ باتیں ہیں۔عبدالباسط نے در حقیقت خود کشی کی تھی جس کی تائید میں جماعت احمد یہ لائکپور نے مولوی عبید اللہ صاحب قریشی ، شیخ محمد یوسف صاحب ، ڈاکٹر محمد طفیل صاحب ، شیخ نذر محمد صاحب، میاں محمد شفیع صاحب، کمانڈر عبداللطیف صاحب ، چوہدری عبدالرحمن