خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 407

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۷ جلد دوم نواب صاحب بہاولپور کی کوٹھی میں جس کا نام مجھے یقینی طور پر یاد نہیں رہا ( غالباً الفیض تھا ) میرے بڑے بھائی میاں فضل کریم صاحب پراچہ بی اے ایل ایل بی سپر نٹنڈنٹ ہوسٹل تھے حضور لا ہور تشریف لائے تو ہوسٹل میں ہی قیام فرمایا۔میں بھی لاہور میں تھا ایک دن حضور باہر تشریف لے گئے اور حضور کے کمرہ میں کوئی نہ تھا تو مولوی عبد الوہاب اُس کمرہ میں گئے اور حضور کے کاغذات دیکھنے لگ گئے۔بھائی فضل کریم صاحب نے دیکھ لیا اور انہوں نے اُن سے بہت سختی کی اور حضور کی خدمت میں بھی بعد میں عرض کر دیا۔اب مجھے یاد نہیں اُس وقت میں ہوسٹل میں تھا یا بعد میں بھائی صاحب نے بتایا وہ بہت غصے میں تھے اور کہتے تھے ان کا پیغامیوں سے تعلق ہے اور اس ضمن میں تلاشی لے رہے تھے۔انہوں نے مولوی عبد الوہاب کی سخت بے عزتی کی جو مجھے ناگوارگزری کیونکہ بھائی صاحب نے حضور سے عرض کر دیا تھا اور حضور نے ستاری سے کام لیا۔مجھے محض حضرت خلیفہ اول کے مقام اور بھیروی اور ہمارے بزرگوں کے محسن ہونے اور اکثر بھیرہ کے لوگوں کے ان کے ذریعہ جماعت میں داخل ہونے کی وجہ سے بھائی صاحب پر افسوس ہوا کہ حضور نے تو ستاری کی اور وہ ان کو ننگا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ جنگ سے پہلے اور جنگ شروع ہونے کے زمانہ میں جو اغلباً ۱۹۳۷ء۔۱۹۳۸ء اور ۱۹۳۹ء تھا میں کاروبار کے سلسلہ میں شملہ جاتا رہا۔پہلی دفعہ وہاں میں مسلم یا دہلی مسلم ہوٹل میں ) صحیح نام یاد نہیں ) ٹھہرا اور پھر دوسری مختلف جگہوں پر ٹھہرا۔میرا قالین کا کاروبار تھا اور قالین کے ایرانی بیو پاری مال لے کر اس ہوٹل میں ٹھہر تے تھے جس کی وجہ سے اکثر اس ہوٹل میں جانا پڑتا تھا۔ہوٹل کے مالک دہلی میں ریلوے اسٹیشن پر مسلم ریفریشمنٹ روم کے کنٹریکٹر بھی تھے اور ان کا مینیجر منظور حسین یا احمد ہوتا تھا مجھے سنہ صحیح یاد نہیں مگر مندرجہ بالا اوقات کے دوران میں ایک دن اس ہوٹل کے کھانے کے کمرے میں چائے یا کھانا کھا رہا تھا تو وہاں ایک سفید ریش معمر مولوی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے اب یاد نہیں کہ مولوی عبد الوہاب صاحب وہاں مجھ سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے یا بعد میں آئے اُن سے وہاں ملاقات ہوئی۔میں اپنے ساتھی کے ساتھ مصروف رہا مولوی عبدالوہاب صاحب فارغ ہو کر چلے گئے اور میں وہاں بیٹھا رہا۔مینیجر ہوٹل منظور صاحب جن