خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 403
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۳ جلد دوم بار کہتے کہ ہمیں کیا بتاتے ہو ہم تو آپ کی جماعت کے اندرون سے اچھی طرح واقف ہیں۔غالبا ۱۹۴۳ء کی گرمیوں کا ذکر ہے کہ دورانِ گفتگو میں حسب معمول چوہدری برکت علی نے متذکرہ بالا ہر دو غیر احمدی احباب کی موجودگی میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے طنزاً کہا کہ تم ابھی بچے ہو تمہیں ابھی اپنی جماعت کے اندرون کا علم نہیں ہوا۔تمہاری جماعت کے سر کر وہ لوگ ہم سے پوشیدہ ملتے رہتے ہیں اور اہل قادیان کے اندرونی حالات ہم کو بتاتے رہتے ہیں جس سے مرزائیت کی سچائی ہم پر خوب واضح ہو چکی ہے۔میں نے اُن سے کہا اگر آپ جھوٹ بول کر اپنا ایمان ضائع نہیں کر رہے ہیں تو مجھے ان سرکردہ احمدیوں کے نام بتائیں جو آپ کو پوشیدہ ملتے ہیں اور اگر بہت سی راز کی باتوں سے آپ پر سچائی آشکار ہو چکی ہے تو چند ایک ہمیں بھی بتائیں تا کہ ہم اس سچائی سے محروم نہ رہ جائیں لیکن وہ اس سوال سے کتراتے اور نام نہ بتاتے صرف اتنا کہتے کہ وہ لوگ تمہاری جماعت میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں لیکن ان سے بہت بے انصافی کا برتاؤ ہوا ہے وہ قادیان میں بہت تنگ ہیں۔ان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور اپنی تنگدستی اور پریشانیوں کی ہم سے شکایت کرتے ہیں اور ہم سے مالی امداد بھی طلب کرتے رہتے ہیں پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگے کہ وہی لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ قادیان بھر میں دوشخص بھی ایسے نہیں ملیں گے جو دل موجودہ خلیفہ سے خوش ہوں۔ڈر کے مارے گو ظا ہر طور پر اب تک مخالفت نہیں ہوئی لیکن جہاں بھی موقع ملتا ہے لوگ خفیہ مجالس کر کے موجودہ خلیفہ کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ނ آجکل بھی وہ ” نوائے پاکستان میں اعلان کر رہے ہیں کہ جماعت کا اکثر حصہ خلیفہ ثانی سے بیزاری کا اظہار کر رہا ہے۔وہ کذاب اور جھوٹا یہاں آکر دیکھے اور جتنے لوگ یہاں بیٹھے ہیں ان کا دسواں حصہ ہی اپنی طرف دکھا دے۔دسواں نہیں ہزارواں حصہ ہی دکھا دے۔ہمارے اندازہ کے مطابق اس وقت جلسہ میں عورتوں اور مردوں کی تعداد ساٹھ ہزار ہے وہ ساٹھ آدمی ہی مبائعین میں سے اپنے ساتھ دکھا دے) پھر کہا اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ حال میں قادیان میں ایک جلسہ عام