خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 402
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۲ جلد دوم میرے والد صاحب مجھے مولوی ظفر اقبال صاحب (سابق پرنسپل اور مینٹل کالج لاہور ) کے پاس لے گئے (جن کے والد احمدی تھے اور جو ڈاکٹر ریاض قد میر صاحب جو لاہور کے مشہور سرجن ہیں ان کے بڑے بھائی ہیں ) اور انہیں کہا کہ میرا بیٹا احمدی ہو گیا ہے اسے سمجھایا کریں میں بہر حال والد صاحب کے کہنے پر مولوی ظفر اقبال صاحب سے ملتا رہا۔انہوں نے سلسلہ کے متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی البتہ ایک دفعہ مجھے کہنے لگے کہ بڑے مرزا صاحب تو یقیناً بڑے اچھے آدمی تھے لیکن آپ کے موجودہ امام پر کئی گندے الزامات ہیں اور یہ کہ میں آپ کو اس کے ثبوت میں عینی شاہد دے سکتا ہوں میں نے کہا کہ مولوی صاحب آپ کو وہ بات کہنے کا اسلام مجاز نہیں بناتا جس کے آپ عینی شاہد نہیں۔جب آپ کی بات ہی اصول کے خلاف ہے تو عینی شاہد مہیا کرنے کیلئے مطالبہ کر نا غلط ہے یہ بات یہیں ختم ہو گئی۔میرا ہمیشہ سے یہی تاثر رہا ہے کہ وہ عینی شاہد جس کا مولوی صاحب ذکر کرتے تھے میاں عبد الوہاب عمر تھے میں حتمی طور پر یہ بات نہیں کہہ سکتا لیکن کئی باتوں اور حالات کی وجہ سے میرا تا ثر یہی رہا ہے۔(خاکسار محمد یوسف ۱۹۵۲ء۔۱۱۔۱۱) اسی کی تصدیق شیخ محمد اقبال صاحب مالک بوٹ ہاؤس کوئٹہ کی شہادت سے بھی ہوتی ہے چنانچہ شیخ صاحب لکھتے ہیں۔شیخ محمد اقبال صاحب تاجر کوئٹہ کی شہادت چوہدری برکت علی مرحوم جو مکتبہ اُردو اور ماہنامہ ”ادب لطیف“ لاہور کے مالک تھے گرمیاں گزار نے اکثر کوئٹہ آتے رہتے تھے ان کے ہمراہ ایک اور غیر احمدی دوست ہوا کرتے تھے جو محکمہ تعلیم پنجاب سے تعلق رکھتے تھے یہ ہر دوا حباب میرے ایک غیر احمدی نوجوان کے گھر اکثر آتے رہتے تھے جو محکمہ ریلوے میں آفیسر ہیں۔وہیں میری ان سے کبھی کبھا ر ملاقات ہوتی۔چوہدری صاحب مرحوم سے مذہبی گفتگو کا سلسلہ اکثر چلا کرتا تھا وہ مجلس احرار کے سرگرم رکن تھے اور اُن کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ احراریوں کی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے اور انکی بڑی مالی امداد بھی کرتے تھے۔احمدیت کے خلاف گونا گوں تعصب رکھتے۔اُن کے لہجہ میں طنز کا پہلو نمایاں ہوتا اور بار