خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 397
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۷ جلد دوم تو لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ) مولوی عمر الدین نے یہ بات ٹوٹی کنڈی کے دوستوں کو بتائی۔میں اس بناء پر سخت رنجیدہ اور متنفر ہوا۔عمر بھر اگر چہ مولوی عبد السلام صاحب بڑے تپاک سے ملتے تھے اور معانقے سے ملتے تھے مگر میرے دل میں بڑی قبض محسوس ہوتی تھی۔بعد میں یہ بھی افواہا سنتا رہا کہ لاہوری جماعت حضرت خلیفہ اول کے گھر والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی جد و جہد کرتی رہتی ہے اور لاہوری لوگ مالی مدد سے تالیف کرتے رہتے ہیں میری ساری ہی عمران سے متنفر گزری ہے۔‘۱۸۰ ۱۹۲۶ء میں میاں عبد الوہاب کی طرف سے مجھ پر عبد الحئی مرحوم کو زہر دینے اور عیش پرستی کرنے کا الزام لگایا گیا اس بارہ میں ملک عزیز احمد صاحب رضاعی رشتہ دار حضرت خلیفہ اول وا تالیق میاں عبد الوہاب صاحب ( جن کو ان کی ماں نے اتالیق مقرر کیا تھا ) کی گواہی ہے کہ:۔۱۹۲۶ء میں میاں عبدالوہاب نے حضور پر مندرجہ ذیل الزام لگائے۔میاں عبد الحئی کو زہر دے دی۔آپا امتہ الحئی صاحبہ کی شادی سیاسی نوعیت سے کی گئی ( یعنی خلیفہ بننے کے لئے۔گو یا خلیفہ پہلے بن گئے شادی بعد میں ہوئی۔)۔آپ معاذ اللہ عیش پرست ہیں اور کہا آپ قادیان سے باہر رہتے ہیں آپ کو حالات کا کیا پتہ ہو۔اس کے علاوہ میری اپنی شہادت ہے کہ ۱۹۲۷ ء۔۱۹۲۶ء میں مباہلہ والے جب گند اُچھال رہے تھے تو علی محمد اجمیری اور عبد الوہاب مل کر وہاں گئے اور ان کو ایک خط لکھ کر بھجوایا کہ آپ خلیفہ ثانی کے متعلق جو چاہیں لکھیں ہمارے خلاف کچھ نہ لکھیں۔انہوں نے خط لکھ کر ایک لڑکے کو دے دیا کہ آپ تسلی رکھیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اس لڑکے نے جو مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا تھا وہ خط مع جواب لا کر مجھے دے دیا۔مولوی علی محمد اجمیری نے مجھے لکھا ہے کہ وہ تو بے شک گئے تھے مگر میاں عبدالوہاب اس میں شامل نہ تھے مگر میرا حافظہ اس کی تردید کرتا ہے۔مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں نے جو اس وقت ہوشیاری سے مباہلہ والوں کے مکان کی نگرانی