خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 395
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۵ جلد دوم غرض عبد الحی مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچالیا مگر حضرت خلیفہ اول کے باقی لڑکوں کے دلوں میں یہ خیال کھٹکتا چلا گیا کہ خلافت ہمارا حق تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیٹے نے اس کو چھین لیا ہے اور یہ حق پھر ہم کو واپس لینا چاہیے۔چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جو قریباً اتنے ہی پرانے احمدی ہیں جتنے پرانے حضرت خلیفہ اول تھے۔غالبا ان کے دو تین سال بعد آئے اور پھر انہوں نے سلسلہ کی خدمت میں بڑا روپیہ خرچ کیا ہے ان کی شہادت ہے کہ :۔۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد پیغامیوں نے قادیان میں ریشہ دوانیوں کا مرکز حضرت خلیفہ اول کے گھر کو بنایا۔مختلف اوقات میں لا ہور سے جاسوس آتے رہے اور اکابر بھی۔اور سازش یہ کی گئی کہ اس خاندان میں ایک برائے نام خلیفہ کا انتظام کیا جائے جسے کچھ عرصہ بعد ٹر کی خلافت کی طرح معزول کر دیا جائے کیونکہ ان کا تجربہ بتا تا تھا کہ اس خاندان کے افراد اس قسم کے سنہری خواب دیکھ رہے ہیں۔خود مجھے بھی یاد ہے کہ ایک دفعہ اپنے بچوں کو لے کر حضرت خلیفہ اول کی بیوی جو میری ساس تھیں میرے پاس آئیں اور بیٹھ کر کہنے لگیں کہ ہماری یہاں کوئی قدر نہیں پیغامی میرے پاس آتے ہیں بڑے روپے دیتے ہیں تحفے لاتے ہیں اور کہتے ہیں لا ہور آ جاؤ ہم بڑی قدر کریں گے۔میں نے کہا بڑی خوشی سے جائیے۔آپ کو یہ خیال ہوگا کہ شاید آپ کی وجہ سے مجھے خلافت ملی ہے مجھے پرواہ نہیں آپ چلے جائیے اور اپنی بھڑاس نکالیے پھر جا کر آپ کو تھوڑے دنوں میں ہی پتہ لگ جائے گا کہ جو کچھ سلسلہ آپ کی مدد کرتا ہے وہ اس کا دسواں حصہ بھی مدد نہیں کریں گے۔چنانچہ وہ پھر نہ گئیں گو درمیان میں جماعت کی وفاداری کی وجہ سے ان کا یہ خیال دبتا رہا مگر پھر بھی یہ چنگاری سلگتی رہی۔چنانچہ ۱۹۱۹ء۔۱۹۱۸ء میں دار حضرت خلیفہ اول میں مجھے زہر دینے کا منصوبہ کیا گیا اس کے متعلق برکت علی صاحب لائق لدھیانوی جو خود ان کے ہم وطن ہیں اور جن کے شاگرد اس وقت پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور اب بھی مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہمارے استاد بڑے نیک تھے ان کا پتہ بتائیں ان کی شہادت ہے کہ ۱۹۱۸ء میں لاہور کے بعض معاندین نے حضرت اقدس کو زہر دینے کی