خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 25
خلافة على منهاج النبوة ۲۵ جلد دوم ہیں کہ قضاء کے بارہ میں میں بھی غلطی کر سکتا ہوں مگر باوجود اس کے قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ شرح صدر سے تیرے فیصلے کو نہیں مانیں گے تو یہ ایمان والے نہیں ہیں۔پس اس معاملہ میں نبی اور خلیفہ کی پوزیشن ایک ہی ہے۔نظام کے قیام کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ ایک انسان کو ایسا حکم مان لیا جائے کہ جس کے فیصلہ کے آگے کوئی چون و چرا نہ کرے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا خلیفہ بے گناہ ہوتا ہے؟ کیا وہ غلط فیصلہ نہیں کر سکتا ؟ مگر میں کہتا ہوں کہ اے بیوقوفو! کیا مجسٹریٹ بے گناہ ہوتے ہیں؟ کیا وہ غلطی نہیں کر سکتے ؟ پھر یہ تسلیم کرنے کے با وجود کہ وہ رشوت بھی لیتے ہیں ، جھوٹے بھی ہوتے ہیں، متعصب بھی ہوتے ہیں، پکڑے جاتے اور سزا بھی پاتے ہیں۔کیا تم نہیں جانتے کہ حکومتوں نے ان کے فیصلہ پر سخت جرح کرنے کو ہتک عدالت قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے۔تم اگر کسی مجسٹریٹ کے فیصلہ کے خلاف اس قسم کی بات کہو کہ اُس نے رعایت سے کام لیا ہے تو فوراً جیل خانہ میں بھیج دیئے جاؤ۔مگر کیا خدائی گورنمنٹ کی تمہارے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں کہ جو کچھ منہ میں آئے کہہ دیتے ہو۔کیا تم میں سے کوئی علی الاعلان کہہ سکتا ہے کہ مجسٹریٹ نے دیانت داری کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔مگر یہ کہنے میں تمہیں کوئی باک نہیں کہ خلیفہ نے دیانت داری کے خلاف فیصلہ کیا ہے اور اس کا نام حریت و آزادی رکھتے ہو۔لیکن سرکاری مجسٹریٹ کے فیصلہ کے متعلق یہ بات کہتے وقت حریت و آزادی کہاں جاتی ہے۔اس کے متعلق صرف اس وجہ سے نہیں کہتے کہ گورنمنٹ کی جوتی سر پر ہوتی ہے۔تم میں بعض لوگ بیٹھے ہیں جو کہتے ہیں کہ کیا چھوٹی سی بات پر جماعت سے نکال دیا مگر سوچو! کیا یہ بات چھوٹی ہے؟ قرآن کریم نے کہا ہے کہ جو کہتا ہے کہ نبی یا اس کے جانشینوں کا فیصلہ غلط ہے وہ مومن ہی نہیں۔صحابہ نے تو اس بات کو اس قدر اہم قرار دیا ہے کہ ایک دفعہ دو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہمارا فیصلہ کر دیں۔ان میں سے ایک منافق تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بات سن ہی رہے تھے کہ اُس نے خیال کیا ، شاید فیصلہ میرے خلاف ہی نہ کر دیں اس لئے اُس نے کہا کہ یا رَسُولَ الله! آپ کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے، ہم اپنا یہ مقدمہ حضرت عمرؓ کے پاس لے جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا لے