خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 381
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۱ جلد دوم کہا تھا اسی طرح ہوا کہ :۔اس کا ہاتھ سب کے اور سب کے ہاتھ اس کے برخلاف ہونگے، یعنی ایک زمانہ تک اسماعیلی نسل تھوڑی ہوگی اور اسحاق کی نسل زیادہ ہوگی اور وہ سب کے سب مل کر اسماعیلی سلسلہ کی مخالفت کرینگے اور کوشش کریں گے کہ وہ کامیاب نہ ہوں۔قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آتا ہے۔وَةٌ كَثِيرُ من اهل الكتب لو يَرُدُّونَكُمْ مِّن بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ عُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقِّ یعنی اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسماعیلی نسل یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اسے چھوڑ کر پھر کا فر ہو جائیں اور یہ محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے کسی قصور کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اپنے دلوں سے پیدا شدہ بغض کی وجہ سے ہے اور رقابت کی وجہ سے ہے وہ سارہ اور ہاجرہ کی لڑائی کو دو ہزار سال تک لمبالے جانا چاہتے ہیں۔پھر علاوہ اس آیت کے بعض اور آیتیں بھی ہیں جو اس مضمون پر دلالت کرتی ہیں۔مثلاً سورة آل عمران رکوع ۸ آیت ۳ ۷ ۷۴ میں فرماتا ہے۔وقالت طَّائِفَةً مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ أمِنُوا بِالَّذِي أَنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وجة النَّهَارِ وَ اكْفُرُوا أخِرَةَ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ وَلَا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَن تيم دينَكُمْ ، قُلْ اِنَّ الْهُدَى هُدَى اللهِ أنْ يُؤْنَ أَحَدُ مِثْلَ مَا أوتِيتُمْ أو يعا جوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ، قُلْ إِنَّ الفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ والله واسع علیم کے یعنی اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا کہ جولوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں یعنی مسلمان ہوئے ہیں ان پر جو کچھ نازل ہوا ہے اے یہودیو! اُس پر صبح کے وقت ایمان لے آیا کرو اور شام کے وقت پھر مرتد ہو جایا کرو۔تا کہ تم کو دیکھ کر اور لوگ بھی مرتد ہو جائیں (جیسے آجکل پیغام صلح شائع کر رہا ہے کہ دیکھو ! منان وہاب باہر آ گئے ہیں۔اے ربوہ سے آزاد ہونے والو! بڑھو۔بڑھو ہمارا نظام تمہارے ساتھ ہے یہی یہودی کہا کرتے تھے کہ ) تم حقیقی طور پر امن اس کو دو جو تمہارے دین کا پیرو ہو۔تو کہہ کہ حقیقی ہدایت تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ یہ ہے کہ کسی کو وہی