خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 378

خلافة على منهاج النبوة ۳۷۸ جلد دوم خلافت کو مٹنے دو، خدا کے کلام کو غلط ثابت ہونے دو مگر یہ کام نہ کرو۔تو کچھ لوگوں نے تو یہ کہا چنانچہ مری میں جب ایک صاحب کو پتہ لگا کہ میں ایک اشتہار لکھ رہا ہوں تو کہنے لگے نہ۔نہ۔نہ۔نہ آپ نے ۲۵ سال ان کو معاف کیا ہے اب بھی معاف کر دیجئے۔میں نے کہا مجھے ۲۵ سال معاف کرنے کی سزا ہی تو مل رہی ہے اگر میں ان کو ۲۵ سال معاف نہ کرتا اور ۱۹۲۶ء میں ہی ان کو کیڑے کی طرح باہر نکال کے پھینک دیتا تو آج ان کو یہ کہاں ہمت ہوتی۔یہ مولا نا بنے ہمارے وظیفے کھا کھا کے۔یہ طبیب بنے سلسلہ سے وظیفے لے لے کر۔اور اب اِن کو یہ جرات پیدا ہوگئی کہ کہہ دیا کہ حضرت مولانا نے مسند احمد بن حنبل کی تبویب کی ہے۔حالانکہ مسند احمد بن حنبل کی تبویب کا کچھ حصہ حضرت خلیفہ اول نے کیا ہوا تھا وہ فہرست لائبریری سے مولوی عبد المنان نے عاریتہ لی اور واپس نہ کی اور اس کے اوپر کتاب لکھی اور وہ بھی جامعہ احمدیہ کے پروفیسروں اور طالبعلموں کی مدد سے اور پھر اس کے بعد کہہ دیا کہ یہ عظیم الشان کام میں نے کیا ہے۔جب یہ ہوا تو ہمارے مولویوں کو غیرت پیدا ہوئی اور انہوں نے مجھے کہا کہ اس کتاب کو چھوڑ میں ہم لکھ دیں گے۔میں نے کہا بشرطیکہ جلسہ سے پہلے لکھ دو۔چنانچہ بارہ دن ہوئے وہ مجھے اطلاع دے چکے ہیں کہ مسند احمد بن حنبل کی تبویب اس سے زیادہ مکمل جس کا دعوی مولوی عبد المنان کرتے ہیں ہم تیار کر چکے ہیں اور اس لئے گو اس کی چھپوائی پر بڑی رقم خرچ ہو گی مگر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کو جز و جز و کر کے شائع کر دیا جائے تاکہ پہلے اجزاء کی قیمت سے اس کے آخری اجزاء چھاپے جاسکیں اور حضرت خلیفہ اول کی خواہش پوری ہو جائے۔خود میں نے بھی اس کے متعلق ۱۹۴۴ء میں ایک تقریر کی ہوئی ہے اور تبویب کے متعلق بعض باتیں بیان کی ہوئی ہیں میں نے کہہ دیا ہے کہ ان کو بھی تبویب میں مدنظر رکھا جائے تا کہ وہ بہت زیادہ مفید ہو سکے۔اس بیماری کے بعد کئی باتیں مجھے اب تک پرانے زمانہ کی بھی یاد ہیں مگر کئی باتیں قریب کی بھولی ہوئی ہیں مجھے بالکل یا د نہیں تھا کہ ۱۹۴۴ء میں میں نے مسند احمد بن حنبل پڑھ کر اس کے متعلق تقریر کی ہوئی ہے کہ اس میں اِن اِن اصلاحوں کی ضرورت ہے۔اب ایک مبلغ آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی تو اس پر بڑی اعلیٰ درجہ کی ایک تقریر ہے جو ” الفضل میں چھپ چکی ہے۔چنانچہ