خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 373

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر ( تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۵۶ء بر موقع جلسه سالانه ربوہ ) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔" آج کی تقریر عام طور پر عام مسائل پر ہوا کرتی تھی لیکن اس دفعہ فتنہ کی وجہ سے مجھے اس تقریر کیلئے بھی ایک ایسا موضوع چننا پڑا جو اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کیلئے اس وجہ سے کہ اس کا تعلق خلافت احمدیہ سے ہے اور جماعت احمد یہ میں جولوگ شامل نہیں ان کے لئے اس لئے کہ اس میں ایک اسلامی موضوع بیان ہوا ہے نہایت اہمیت رکھنے والا ہے۔اور دوسرے اس لئے بھی میں نے اسے چنا ہے کہ اگر وہ ہمارے اندر فتنہ پیدا ہونے سے خوش ہوتے ہیں تو اور بھی خوش ہو جائیں اور ساری تفصیل ان کو معلوم ہو جائے۔لیکن اس کی تفصیلات اتنی ہو گئی ہیں کہ میں حیران ہوں کہ اس مضمون کو کس طرح بیان کروں۔بعض دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ اس کے بعض حصوں میں میں صرف نوٹ پڑھ کر سنا دوں۔پہلے میری عادت تھی کہ بار یک نوٹ چھوٹے کاغذ پر آٹھ یا بارہ صفحے کے لکھے ہوئے ہوتے تھے ، حد سے حد سولہ صفحے کے۔بعض بہت لمبی لمبی پانچ پانچ چھ چھ گھنٹہ کی تقریر میں ہوئیں تو ان میں چوبیس صفحہ کے بھی نوٹ ہوتے تھے لیکن وہ ایسے صفحے ہوتے ہیں کہ ایک فل سکیپ سائز کے کاغذ کے آٹھ صفحے بنتے ہیں مگر اس دفعہ یہ نوٹ بہت لمبے ہو گئے ہیں۔دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ میں وہ نوٹ ہی پڑھ کر سنا دوں۔گو بعض دوسروں نے کہا ہے کہ آپ پڑھ کر سنا ہی نہیں سکتے جب پڑھ کے سنانے لگیں گے تو کچھ نہ کچھ اپنی باتیں شروع کر دیں گے اس طرح تقریر لمبی ہو جائے گی۔گو یہ ہو سکتا ہے کہ بعض حصے جو رہ جائیں اُن کو بعد میں شائع