خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 22
خلافة على منهاج النبوة ۲۲ جلد دوم خلیفہ کا احترام اور مقام ۱۹۳۲ء کے جلسہ سالانہ کے دوسرے دن ۲۷ / دسمبر کو حضور نے حسب معمول متفرق امور کے بارہ میں تقریر فرمائی۔ابتداء حضور نے فرمایا کہ عورتوں کی جلسہ گاہ نا کافی ہونے کی وجہ سے بہت دقت پیش آئی ہے اس لئے منتظمین کو توجہ کرنی چاہیے۔اسی طرح کی توجہ طلب مزید کچھ باتوں کی طرف توجہ دلائی اور مقام خلافت بیان کرتے ہوئے فرمایا :۔ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو سفارش میں خلافت کو بھی کھینچ کر لا نا چاہتا ہے۔یہ بہت گری ہوئی اور نہایت قابل نفرت بات ہے۔خلافت نبوت کی نیابت ہے اور نبوت خدا کی نیابت ہے پس خلیفہ کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی گردن نیچی ہو، بہت بڑی ہتک ہے۔ہم دُنیوی لحاظ سے بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں مگر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خلیفہ کا درجہ تمام دنیا کے بادشاہوں سے بڑا ہے۔اگر کوئی یہ نہیں یقین رکھتا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مسیحیت سے واقف نہیں۔خلیفہ کے پاس اس لئے آنا کہ ڈپٹی کمشنر یا کسی مجسٹریٹ کو سفارش کرائی جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ کی ان حکام کے سامنے نظر نیچی کرائی جائے اور اگر اس حد تک خلیفہ کی سفارش لے جائیں تو پھر خدا تعالیٰ پر تو کل کہاں رہا۔جو شخص کسی مجسٹریٹ کے لئے سفارش چاہتا ہے اسے تو میں مجرم سمجھتا ہوں۔میں نے جب یہ رکھا ہے کہ اپنی جماعت کے کسی قاضی کے متعلق اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس نے کسی معاملہ میں کسی کی سفارش قبول کی ہے تو میں اسے نکال دوں گا تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ کسی مجسٹریٹ سے خود سفارش کروں۔بعض دفعہ کر دیتا ہوں مگر وہ اور رنگ کی سفارش ہوتی ہے۔مثلاً یہ کہ مقدمہ کا جلدی تصفیہ کر دیا جائے اس قسم کی سفارش میں نقص نہیں مگر یہ کہ فلاں کے حق میں فیصلہ کیا جائے یہ نہیں ہو سکتا۔ایک شخص نے تو یہاں تک کہہ دیا