خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 356
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۶ جلد دوم مسئلہ کے متعلق آپ کو خیال پیدا ہوا کہ آپ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی بھی کوئی کتاب پڑھ لیں اور دیکھیں کہ انہوں نے اس کے متعلق کیا لکھا ہے۔آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا محمود ! ذرا مولوی صاحب کی کتاب تصدیق براہین احمدیہ لاؤ اور مجھے سناؤ۔چنانچہ میں وہ کتاب لایا اور آپ نے نصف گھنٹہ تک کتاب سنی۔اس کے بعد فرمایا اس کو واپس رکھ آؤ اس کی ضرورت نہیں۔اب تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب چشمہ معرفت کو بھی پڑھو اور حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کی کتاب تصدیق براہین احمدیہ کو بھی دیکھو اور پھر سوچو کہ کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے اور کیا آپ نے کوئی نکتہ بھی اس کتاب سے اخذ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے اپنی اس کتاب میں پیدائش عالم اور حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق ایسے مسائل بیان فرمائے ہیں کہ ساری دنیا سر دھنتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ یہ لا ینحل عقدے تھے۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حل کر دیا ہے۔یہ سب برکت جو ہمیں ملی ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملی ہے۔اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ اپنی ساری زندگی آپ کے لائے ہوئے پیغام کی خدمت میں لگا دیں اور کوشش کریں کہ آپ کے بعد آپ کی اولا د اور پھر اس کی اولاد، اور پھر اس کی اولاد بلکہ آپ کی آئندہ ہزاروں سال تک کی نسلیں اس کی خدمت میں لگی رہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی خلافت کو قائم رکھیں۔مجھ پر یہ بہتان لگایا گیا ہے کہ گویا میں اپنے بعد اپنے کسی بیٹے کو خلیفہ بنانا چاہتا ہوں۔یہ بالکل غلط ہے اگر میرا کوئی بیٹا ایسا خیال بھی دل میں لائے گا تو وہ اُسی وقت احمدیت سے نکل جائے گا بلکہ میں جماعت سے کہتا ہوں کہ وہ دعائیں کرے کہ خدا تعالیٰ میری اولا دکو اِس قسم کے وسوسوں سے پاک رکھے۔ایسا نہ ہو کہ اس پرا پیگینڈار کی وجہ سے میرے کسی کمزور بچے کے دل میں خلافت کا خیال پیدا ہو جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آقا تھے اگر ان کی اولاد میں بھی کسی وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ خلافت کو حاصل کریں تو وہ