خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 355

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۵ جلد دوم ان بیان کیا کہ ایک طرف مولویوں کا زور ٹوٹ گیا تو دوسری طرف عیسائی ختم ہو گئے۔بھیرہ میں ایک غیر احمدی حکیم اللہ دین صاحب ہوتے تھے وہ اپنے آپ کو حضرت خليفة أمسیح الاوّل سے بھی بڑا حکیم سمجھتے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی حکیم فضل دین صاحب اُنہیں ملنے کیلئے گئے اور انہوں نے چاہا کہ وہ انہیں احمدیت کی تبلیغ کریں۔حکیم اللہ دین صاحب بڑے رُعب والے شخص تھے وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے۔تو کل کا بچہ ہے اور مجھے تبلیغ کرنے آیا ہے تو احمدیت کو کیا سمجھتا ہے میں اسے خوب سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے اپنی مشہور کتاب براہین احمدیہ لکھی جس سے اسلام تمام مذاہب پر غالب ثابت ہوتا تھا مگر مولویوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔حضرت مرزا صاحب کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا اچھا! تم بڑے عالم بنے پھرتے ہو میں حضرت عیسی علیہ السلام کو قرآن کریم سے فوت شدہ ثابت کر دیتا ہوں تم اسے زندہ ثابت کر کے دکھاؤ۔گویا آپ نے یہ مسئلہ ان مولویوں کو ذلیل کرنے کیلئے بیان کیا تھا ورنہ در حقیقت آپ کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔پھر حکیم صاحب نے ایک گندی گالی دے کر کہا کہ مولوی لوگ پورا زور لگا چکے ہیں مگر حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں ناکام رہے ہیں اس کا اب ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ ہے کہ سب مل کر حضرت مرزا صاحب کے پاس جائیں اور کہیں ہم آپ کو سب سے بڑا عالم تسلیم کرتے ہیں ہم ہارے اور آپ جیتے اور اپنی پگڑیاں انکے پاؤں پر رکھ دیں اور درخواست کریں کہ اب آپ ہی قرآن کریم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت کر دیں ہم تو پھنس گئے ہیں اب معافی چاہتے ہیں اور آپ کو اپنا استاد تسلیم کرتے ہیں۔اگر مولوی لوگ ایسا کریں تو دیکھ لینا حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم میں سے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ثابت کر دینا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ عظمت دی ہے کہ آپ کے مقابلہ میں اور کوئی نہیں ٹھہر سکتا چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو کیونکہ اگر وہ جماعت میں بڑا ہے تو آپ کی غلامی کی وجہ سے بڑا ہے آپ کی غلامی سے با ہر نکل کر اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔مجھے یاد ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب چشمہ معرفت لکھی تو کسی