خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 350

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۰ جلد دوم یا درکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ از لی اور ابدی ہے اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ۔تم اپنے انصار ہونے کی علامت لئے خلافت کو ہمیشہ ہمیش کیلئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے اس لئے میں نے اطفال الاحمدیہ کی تنظیم قائم کی تھی اور خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا یہ اطفال اور خدام آپ لوگوں کے ہی بچے ہیں۔اگر اطفال الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی تو خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی اور اگر خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی تو اگلی نسل انصار اللہ کی اعلیٰ ہوگی۔میں نے سیٹرھیاں بنادی ہیں آگے کام کرنا تمہارا کام ہے۔پہلی سیڑھی اطفال الاحمدیہ ہے دوسری سیڑھی خدام الاحمدیہ ہے تیسری سیڑھی انصار اللہ ہے اور چوتھی سیڑھی خدا تعالیٰ ہے۔تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرو اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگو تو یہ چاروں سیڑھیاں مکمل ہو جائیں گی۔اگر تمہارے اطفال اور خدام ٹھیک ہو جائیں اور پھر تم بھی دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لوتو پھر تمہارے لئے عرش سے نیچے کوئی جگہ نہیں۔اور جو عرش پر چلا جائے وہ بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔دنیا حملہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ زیادہ سے زیادہ سو دو سوفٹ پر حملہ کر سکتی ہے وہ عرش پر حملہ نہیں کر سکتی۔پس اگر تم اپنی اصلاح کرلو گے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو گے تو تمہارا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو جائے گا۔اور اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لوتو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی اور وہ عیسائیت کی خلافت سے بھی لمبی چلے گی۔عیسائیوں کی تعدا د تو تمام کوششوں کے بعد مسلمانوں سے قریباً دگنی ہوئی ہے مگر تمہارے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تعداد کو اتنا بڑھا دے گا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دوسرے تمام مذاہب ہندو ازم ، بدھ مت، عیسائیت اور شنٹو ازم وغیرہ کے پیرو تمہارے مقابلہ میں بالکل ادنی اقوام کی طرح رہ جائیں گے۔یعنی ان کی تعداد تمہارے مقابلہ میں ویسی ہی بے حقیقت