خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 346
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۶ جلد دوم تھا۔چنانچہ سندھ سے ایک آدمی نے مجھے لکھا کہ یہاں میاں عبدالمنان کے بھانجے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا ایک پر وردہ شخص بشیر احمد آیا اور اس نے کہا کہ خلافت تو رت خلیفۃ اصبح الاول کا مال تھا اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولا دکو ملنا چاہیے تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی اولاد نے اسے غضب کر لیا۔اب ہم سب نے مل کر یہ کوشش کرنی ہے کہ اس حق کو دوبارہ حاصل کریں۔پھر میں نے میاں عبد السلام صاحب کی پہلی بیوی کے سوتیلے بھائی کا ایک خط پڑھا جس میں اس نے اپنے سوتیلے ماموں کو لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ مشرقی بنگال کی جماعت نے ایک ریز ولیشن پاس کر کے اس فتنہ سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ہمیں تو اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے تھا ہمارے لئے تو موقع تھا کہ ہم کوشش کر کے اپنے خاندان کی وجاہت کو دوبارہ قائم کرتے۔یہ ویسی ہی نا معقول حرکت ہے جیسی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر لا ہور کے بعض مخالفین نے کی تھی۔انہوں نے آپ کے نقلی جنازے نکالے اور آپ کی وفات پر خوشی کے شادیانے بجائے۔وہ تو دشمن تھے لیکن یہ لوگ احمدی کہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے خاندان کی وجاہت کو قائم کرنا چاہیے حالانکہ حضرت خلیفتہ امیج الاول کو جو عزت اور درجہ ملا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملا ہے جو چیز آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملی تھی وہ ان لوگوں کے نزدیک ان کے خاندان کی جائداد بن گئی۔یہ وہی فقرہ ہے جو پرانے زمانہ میں ان لڑکوں کی والدہ نے مجھے کہا کہ پیغامی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خلافت تو حضرت خلیفہ المسح الا قول کی تھی۔اگر آپ کی وفات کے بعد آپ کے کسی بیٹے کو خلیفہ بنالیا جاتا تو ہم اس کی بیعت کر لیتے مگر مرزا صاحب کا خلافت سے کیا تعلق تھا کہ آپکے بیٹے کو خلیفہ بنا لیا گیا۔اُس وقت میری بھی جوانی تھی میں نے انہیں کہا کہ آپ کیلئے رستہ کھلا ہے تانگے چلتے ہیں ( اُن دنوں قادیان میں ریل نہیں آئی تھی ) آپ چاہیں تو لاہور چلی جائیں۔میں آپ کو نہیں روکتا۔وہاں جا کر آپ کو پتہ لگ جائیگا کہ وہ آپ کی کیا امداد کرتے ہیں وہاں تو مولوی محمد علی صاحب کو بھی خلافت نہیں ملی انہیں صرف امارت ملی تھی اور امارت بھی ایسی کہ