خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 338

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۸ جلد دوم تو اس زمانہ کے لوگ تمہارے زمانہ کے لوگوں کو بھی تلاش کریں گے۔اور اگر چالیس سال اور گزر گئے تو اس زمانہ کے لوگ تمہارے ملنے والوں کو تلاش کریں گے اسلامی تاریخ میں صحابہ کے ملنے والوں کو تابعی کہا گیا ہے۔کیونکہ وہ صحابہ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئے تھے۔اور ایک تبع تابعی کا درجہ ہے۔یعنی وہ لوگ جو تابعین کے ذریعہ صحابہ کے قریب ہوئے اور آگے صحابہ کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے قریب ہوئے۔اس طرح تین درجے بن گئے۔ایک صحابی دوسرے تابعی اور تیسرے تبع تابعی۔صحابی وہ جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں۔تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کو دیکھا اور تبع تابعی وہ جنہوں نے آپ سے باتیں سننے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔دُنیوی عاشق تو بہت کم حوصلہ ہوتے ہیں۔کسی شاعر نے کہا ہے۔تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دو مجھ سے جھگڑا ہو نہیں سکتا مگر مسلمانوں کی محبت رسول دیکھو جب محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے صحابہ فوت ہوئے تو انہوں نے آپ سے قریب ہونے کے لئے تابعی کا درجہ نکال لیا۔اور جب تابعی ختم ہو گئے تو انہوں نے تبع تابعین کا درجہ نکال لیا۔اس شاعر نے تو کہا تھا تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا مگر یہاں یہ صورت ہوگئی کہ تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں اور پھر ان کے چاہنے والوں کو بھی چاہوں۔اور پھر تیرہ سو سال تک برابر چاہتا چلا جاؤں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا بلکہ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! ہم آپ کے چاہنے والوں کو چاہتے ہیں چاہے وہ صحابی ہوں ، تابعی ہوں ، تبع تابعی ہوں یا تبع تبع تابعی ہوں اور ان کے بعد یہ سلسلہ خواہ کہاں