خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 333

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۳ جلد دوم شہادت حسین کا واقعہ یادر ہے۔اسی طرح میں بھی خدام کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سال میں ایک دن خلافت ڈے کے طور پر منایا کریں۔اس میں وہ خلافت کے قیام پر خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کیا کریں اور اپنی پرانی تاریخ کو دہرایا کریں۔پرانے اخبارات کا ملنا تو مشکل ہے لیکن الفضل نے پچھلے دنوں ساری تاریخ کو از سرنو بیان کر دیا ہے۔اس میں وہ گالیاں بھی آگئی ہیں جو پیغامی لوگ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کو دیا کرتے تھے اور خلافت کی تائید میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے جو دعوے کئے ہیں وہ بھی نقل کر دیئے گئے ہیں تم اس موقع پر اخبارات سے یہ حوالے پڑھ کر سناؤ۔اگر سال میں ایک دفعہ خلافت ڈے منا لیا جایا کرے تو ہر سال چھوٹی عمر کے بچوں کو پُرانے واقعات یاد ہو جایا کریں گے۔پھر تم یہ جلسے قیامت تک کرتے چلے جاؤ تا جماعت میں خلافت کا ادب اور اس کی اہمیت قائم رہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت ۱۹۰۰ سال سے برابر قائم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو درجہ میں ان سے بڑے ہیں خدا کرے ان کی خلافت دس ہزار سال تک قائم رہے مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم سال میں ایک دن اس غرض کے لئے خاص طور پر منانے کی کوشش کرو۔میں مرکز کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ بھی ہر سال سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کی طرح خلافت ڈے منایا کرے اور ہر سال یہ بتایا کرے کہ جلسہ میں ان مضا مین پر تقاریر کی جائیں۔الفضل سے مضامین پڑھ کر نو جوانوں کو بتایا جائے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل نے خلافتِ احمدیہ کی تائید میں کیا کچھ فرمایا ہے اور پیغامیوں نے اس کے رڈ میں کیا کچھ لکھا ہے۔اسی طرح وہ رو یا وکشوف بیان کئے جایا کریں جو وقت سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھائے اور جن کو پورا کر کے خدا تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ اس کی برکات اب بھی خلافت ( الفضل ۲۸ اپریل اور یکم مئی ۱۹۵۷ء) سے وابستہ ہیں۔" النور: ۵۶