خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 332

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۲ جلد دوم نام تک نہ لیا۔اُس وقت آپ اپنے وطن بھیرہ میں ایک شاندار مکان بنارہے تھے جب میں بھیرہ گیا تو میں نے بھی یہ مکان دیکھا تھا۔اُس میں آپ ایک شاندار ہال بنوا ر ہے تھے تا کہ اس میں بیٹھ کر درس دیں اور مطب بھی کیا کریں۔موجودہ زمانہ کے لحاظ سے تو وہ مکان زیادہ حیثیت کا نہ تھا لیکن جس زمانہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے یہ قربانی کی تھی اُس وقت جماعت کے پاس زیادہ مال نہیں تھا۔اُس وقت اس جیسا مکان بنانا بھی ہر شخص کا کام نہیں تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے بعد آپ نے واپس جا کر اس مکان کو دیکھا تک نہیں۔بعض دوستوں نے کہا بھی کہ آپ ایک دفعہ جا کر مکان تو دیکھ آئیں لیکن آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا ہے اب اسے دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ایسے عظیم الشان باپ کی اولاد ایک مردہ مچھر سے بھی حقیر چیز پر آگری۔پھر دیکھو حضرت خلیفۃ اصبح الا ول تو اس شان کے انسان تھے کہ وہ اپنا عظیم الشان ہے مکان چھوڑ کر قادیان آ گئے لیکن آپ کے پوتے کہتے ہیں کہ قادیان میں ہمارے دادا کی بڑی جائداد تھی جو ساری کی ساری مرزا صاحب کی اولاد نے سنبھال لی ہے۔حالانکہ جماعت کے لاکھوں آدمی قادیان میں جاتے رہے ہیں اور ہزاروں وہاں رہے ہیں اب بھی کئی لوگ قادیان گئے ہیں انہیں پتہ ہے کہ وہاں حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کا صرف ایک کچا مکان تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی بڑی جائداد تھی مگر وہ جائداد مادی نہیں بلکہ روحانی تھی جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر احمدی کے دل میں آپ کا ادب و احترام پایا جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اگر آپ کی اولا دخلافت کے مقابلہ میں کھڑی ہوگی تو ہر مخلص احمدی انہیں نفرت سے پرے پھینک دے گا اور ان کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرے گا۔آخر میں خدام کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلافت کی برکات کو یا درکھیں۔اور کسی چیز کو یا درکھنے کے لئے پرانی قوموں کا یہ دستور ہے کہ وہ سال میں اس کے لئے خاص طور پر ایک دن مناتی ہیں۔مثلاً شیعوں کو دیکھ لو وہ سال میں ایک دفعہ تعزیہ نکالتے ہیں تا قوم کو