خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 328
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۸ جلد دوم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں وہ شان اور اُمنگ اور جرات پیدا کی کہ انہوں نے اپنے مقابل پر بعض اوقات دو دو ہزار گنا زیادہ تعداد کے لشکر کو بُری طرح شکست کھانے پر مجبور کر دیا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو آپ نے ایک طرف رومی سلطنت کو شکست دی تو دوسری طرف ایران کی طاقت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر کے رکھ دیا۔پھر حضرت عثمان کی خلافت کا دور آیا اس دور میں اسلامی فوج نے آذربائیجان تک کا علاقہ فتح کر لیا اور پھر بعض مسلمان افغانستان اور ہندوستان آئے اور بعض افریقہ چلے گئے اور ان ممالک میں انہوں نے اسلام کی اشاعت کی ، یہ سب خلافت کی ہی برکات تھیں۔یہ برکات کیسے ختم ہوئیں؟ یہ اسی لئے ختم ہوئیں کہ حضرت عثمان کے آخری زمانہ خلافت میں مسلمانوں کا ایمان بالخلافت کمزور ہو گیا اور اُنہوں نے خلافت کو قائم رکھنے کے لئے صحیح کوشش اور جد و جہد کو ترک کر دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ کا وعدہ واپس لے لیاتی لیکن عیسائیوں میں دیکھ لو ۱۹۰۰ سال سے برا بر خلافت چلی آ رہی ہے اور آئندہ بھی اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔آخر یہ تفاوت کیوں ہے اور کیوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت ۳۰ سال کے عرصہ میں ختم ہو گئی ؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمانوں نے خلافت کی قدر نہ کی اور اس کی خاطر قربانی کرنے سے انہوں نے دریغ کیا۔جب باغیوں نے حضرت عثمان پر حملہ کیا تو آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے لوگو! میں وہی کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کیا کرتے تھے میں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔لیکن تم فتنہ پرداز لوگوں کو اپنے گھروں میں آنے دیتے ہو اور ان سے باتیں کرتے ہو اس سے یہ لوگ دلیر ہو گئے ہیں لیکن تمہاری اس غفلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خلافت کی برکات ختم ہو جائیں گی اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔اب دیکھ لو وہی ہوا جو حضرت عثمان نے فرمایا تھا۔حضرت عثمان کا شہید ہونا تھا کہ مسلمان بکھر گئے اور آج تک وہ جمع نہیں ہوئے۔ایک زمانہ وہ تھا کہ جب روم کے بادشاہ نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ میں اختلاف دیکھا تو اُس نے چاہا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجے۔اُس