خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 323

خلافة على منهاج النبوة ۳۲۳ جلد دوم پھوٹی تو انہوں نے اپنے اس خیال کے مطابق اپنے مریدوں سے جو تعداد میں پانچ سات سے زیادہ نہیں تھے کہا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر ان کے پاس آ جائیں۔چنانچہ وہ ان کے پاس آ گئے لیکن بعد میں انہیں خود طاعون ہو گئی۔ان کے مریدوں نے کہا کہ چلو اب جنگل میں چلیں لیکن انہوں نے کہا جنگل میں جانے کی ضرورت نہیں طاعون مجھ پر اثر نہیں کرے گی آخر جب مریدوں نے دیکھا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں تو وہ انہیں ہسپتال میں لے گئے اور وہ اسی جگہ طاعون سے فوت ہو گئے۔بہر حال جب بیعت خلافت ہوئی تو پیغامیوں نے سمجھا میر عابد علی صاحب چونکہ صوفی منش آدمی ہیں اور عبادت گزار ہیں اس لئے الوصیت کے مطابق چالیس آدمیوں کا ان کی بیعت میں آ جانا کوئی مشکل امر نہیں چنانچہ مولوی صدر دین صاحب اور بعض دوسرے لوگ رات کو ان کے پاس گئے اور کہا آپ اس بات کے لئے تیار ہو جائیں۔چنانچہ وہ اس بات پر آمادہ ہو گئے۔اُس وقت مولوی محمد علی صاحب نے دیانتداری سے کام لیا وہ جب اس مجلس سے واپس آگئے جس میں جماعت نے مجھے خلیفہ منتخب کیا تھا تو ان لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے بڑی بیوقوفی کی۔آپ اگر مجلس میں اعلان کر دیتے کہ میری بیعت کر لو تو چونکہ مرزا محمود احمد صاحب یہ کہہ چکے تھے کہ میں خلیفہ بنا نہیں چاہتا لوگوں نے آپ کی بیعت کر لینی تھی اور ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی آپ کی بیعت کر لیتے انہوں نے کہا میں یہ کام کیسے کر سکتا تھا میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ خلافت کی کوئی ضرورت نہیں۔بہر حال جب ان لوگوں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب خلیفہ بننے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے جیسا کہ میں نے بتایا ہے میر عابد علی صاحب کو بیعت لینے کے لئے آمادہ کیا اور اس کے بعد وہ ہری کین لے کر ساری رات قادیان میں دو ہزار احمدیوں کے ڈھیروں پر پھرتے رہے لیکن انہیں چالیس آدمی بھی سید عابد علی شاہ صاحب کی بیعت کرنے والے نہ ملے۔اُس وقت کے احمدیوں کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ غریب سے غریب احمدی بھی کروڑوں روپیہ پر تھوکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پھیلے۔جب انہیں میر عابد علی صاحب کی بیعت کے لئے چالیس آدمی بھی نہ ملے تو وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔