خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 299
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۹ جلد دوم وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں نے تو اس شخص کے ساتھ دوستی نہیں کی مگر بــطــائــہ کے معنی صرف دوستی کے نہیں بلکہ مخفی تعلق کے بھی ہیں اور وہ شخص اس منافق سے چوری چھپے ملا تھا۔اب اس کے قول کے مطابق اس کی اس منافق سے دوستی ہو یا نہ ہو، یہ بات تو ظاہر ہوگئی کہ اس نے اس سے مخفی تعلق رکھا۔پھر جب اُسے سمجھایا گیا تو اس نے بہانہ بنایا اور کہا کہ اس منافق کو لیکھرام کا درجہ کس نے دیا ہے۔اسے یہ خیال نہ آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پنڈت لیکھرام کو سلام کا جواب نہ دیتے وقت جس آیت پر عمل کیا تھا وہ یہی آیت تھی جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس میں لیکھرام یا اس جیسے لوگوں کا ذکر نہیں بلکہ صرف یہ ذکر ہے کہ ایسے لوگ جو تمہارے اندر اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں تم ان سے کوئی تعلق نہ رکھو۔پس یا تو اسے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ جس شخص سے وہ ملا تھا وہ جماعت کے اندر اختلاف اور فساد پیدا کرنے والا نہیں اور اگر اس شخص نے واقعہ میں جماعت کے اندر اختلاف اور فساد پیدا کیا ہے تو اس کا یہ کہنا کہ اُسے لیکھرام کا درجہ کس نے دیا ہے ، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود احمدیت پر ایسا ایمان نہیں رکھتا۔بہر حال قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے وفاداری کے عہد کی ایک علامت بتائی اور اس علامت کو پورا کئے بغیر وفاداری کے عہد کی کوئی قیمت نہیں۔تم ان جماعتوں سے آئے ہو جنہوں نے وفاداری کے عہد بھجوائے ہیں لیکن اگر تم اس عہد کے باوجود کسی منافق سے تعلق رکھتے ہو اور اس سے علیحدگی میں ملتے ہو تو وہ بطانة کے پنجے میں آجاتا ہے۔کیونکہ وہ منافق اور اس کی پارٹی کے لوگ جماعت میں فتنہ اور فساد پیدا کرتے ہیں۔اگر تم ان سے مخفی طور پر تعلق رکھتے ہو تو تمہارا عہدِ وفا داری اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا جتنی حیثیت گدھے کا پاخانہ رکھتا ہے۔گدھے کے پاخانہ کی تو کوئی قیمت ہوسکتی ہے کیونکہ وہ روڑی کے طور پر کام آ سکتا ہے لیکن تمہارا عہد وفاداری خدا تعالیٰ کے نزدیک رُوڑی کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتا اور وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔پس یا د رکھو کہ ایمان شیشہ سے بھی زیادہ نازک چیز ہے اور اس کی حفاظت کے لئے غیرت کی ضرورت ہے۔جس شخص کے اندر ایمانی غیرت نہیں وہ منہ سے بے شک کہتا رہے کہ میں وفادار ہوں لیکن اس کے اس عہد وفاداری کی کوئی قیمت نہیں۔مثلاً اس وقت