خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 298

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۸ جلد دوم نہ کرنا دونوں جمع نہ ہو جائیں ، تم مومن نہیں ہو سکتے۔کرنا تو یہ ہے کہ تم نے وفادار رہنا ہے لیکن اس کی علامت ایک نہ کرنے والا کام ہے۔خالی منہ سے کہہ دینا کہ میں وفا دار ہوں کوئی چیز نہیں۔اگر تم واقعہ میں وفادار ہو تو تمہیں ایک اور کام بھی کرنا ہوگا یا یوں کہو کہ تمہیں ایک کام سے بچنا پڑے گا اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ تمہارے ہم خیال نہیں ، وہ تم سے الگ ہیں ، ان سے مخفی تعلق اور دوستی ترک کرنی پڑے گی۔لایا لو تكُم خَبَالا اگر تم ہماری یہ بات نہیں مانو گے تو وہ تمہارے اندرفتنہ اور فساد پیدا کرنے میں کوئی کوتا ہی نہیں کریں گے اور تمہارے وفاداری کے عہد خاک میں مل جائیں گے۔تمہارا عزم اور تمہارا دعوئی مٹی میں مل جائے گا اور وہ کچھ بھی نہیں رہے گا جب تک کہ تم ہماری اس ہدایت کو نہیں مانو گے یعنی وہ لوگ جو تم سے الگ ہیں اور تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرتے ہیں تم ان سے قطعی طور پر کسی قسم کی دوستی اور تعلق نہ رکھو۔ایک شخص جو میرا نام نہاد رشتہ دار کہلاتا ہے وہ یہاں آیا اور ایک منافق کو ملنے گیا۔جب اُس کو ایک افسر سلسلہ نے توجہ دلائی کہ وہ ایک منافق سے ملنے گیا تھا تو اُس نے کہا کہ صدر انجمن احمدیہ نے کب حکم دیا تھا کہ اس شخص سے نہ ملا جائے۔اس افسر نے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کس نے حکم دیا تھا کہ پنڈت لیکھرام کے سلام کا جواب نہ دیا جائے۔اگر تمہارے لئے کسی حکم کی ضرورت تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پنڈت لیکھرام کے سلام کا جواب نہ دینے اور اپنا منہ پرے کر لینے کا کس نے حکم دیا تھا۔جو محرک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دماغ میں پیدا ہوا تھا وہ تمہارے اندر کیوں نہ پیدا ہوا۔چنانچہ اس شخص کے اندر منافقت گھسی ہوئی تھی اس لئے اس نے جواب میں کہا کہ یہ کس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شخص لیکھرام کے مقام تک پہنچ گیا ہے حالانکہ قرآن کریم نے صرف اتنا کہا ہے کہ لا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ یہ نہیں کہا کہ لا تَتَّخِذُ وابطانَةً مِّن ليكهرام و مثله که م لیکھر ام اور اس جیسے لوگوں سے نہ ملو بلکہ فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنے عمل سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ نہیں چاہے وہ لیکھرام کے مقام تک پہنچے ہوں یا نہ پہنچے ہوں تم ان سے بطانہ یعنی دوستی اور مخفی تعلق نہ رکھو۔09۔