خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 297

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۷ جلد دوم ایمان شیشہ سے بھی زیادہ نازک چیز ہے اور اس کی حفاظت کیلئے ایمانی غیرت کی ضرورت ہے مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ۱۹ تا ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۶ء میں ۱۹ را کتوبر کو حضور نے خطاب کے شروع میں مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لا يَا لَوْ تَكُمْ خَبَالا ، وَدُّوا عَنِتُمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۖ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ اكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الأَنْتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ ! اس کے بعد فر ما یا :۔قرآن کریم کی یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اس دور کے متعلق جو آجکل ہم پر گزر رہا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی تعلیم دی ہے جو ہماری جماعت کو ہر وقت مدنظر چاہیے۔بے شک ہماری جماعت کے دوستوں نے موجودہ فتنہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے عہد وفا داری کو تازہ کیا ہے اور ہر جگہ کی جماعت نے وفاداری کا عہد مجھے بھجوایا ہے مگر قرآن کریم میں اس آیت میں وفاداری کے عہد کے علاوہ کچھ اور باتیں بھی بیان کی گئی ہیں یا یوں کہو کہ وفاداری کی صحیح تعریف بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خالی منہ سے کہہ دینا کہ میں وفا دار ہوں ، کافی نہیں بلکہ اس مثبت کے مقابلہ میں ایک منفی کی بھی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ اے مومنو! اگر تمہاری وفاداری کا عہد سچا ہے تو تمہیں جس طرح وفاداری کرنی ہوگی اسی طرح ایک بات نہیں بھی کرنی ہوگی۔جب تک یہ کرنا اور