خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 284

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۴ جلد دوم انہوں نے یہ سمجھا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں تو خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر خلیفے تم نے بنائے ہیں تو اب تم ہی بناؤ۔چنانچہ ایک وقت تک تو وہ پہلوں کا مارا ہوا شکار یعنی حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی کا مارا ہوا شکا ر کھاتے رہے لیکن مرا ہوا شکار ہمیشہ قائم نہیں رہتا زندہ بکرا زنده بکری زندہ مرغا اور زندہ مرغیاں تو ہمیں ہمیشہ گوشت اور انڈے کھلائیں گے لیکن ذبح کی ہوئی بکری یا مرغی زیادہ دیر تک نہیں جاسکتی کچھ وقت کے بعد وہ خراب ہو جائے گی۔حضرت ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کے زمانہ میں مسلمان تازہ گوشت کھاتے تھے لیکن بے وقوفی سے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ یہ چیز ہماری ہے اس طرح انہوں نے اپنی زندگی کی روح کو ختم کر دیا اور مرغیاں اور بکریاں مُردہ ہو گئیں۔آخر تم ایک ذبح کی ہوئی بکری کو کتنے دن کھا لو گے۔ایک بکری میں دس بارہ سیر یا چھپیں تھیں سیر گوشت ہوگا اور آخر وہ ختم ہو جائے گا۔پس وہ بکریاں مُردہ ہو گئیں اور مسلمانوں نے کھا پی کر انہیں ختم کر دیا۔پھر وہی حال ہوا کہ ”ہتھ پرانے کھونسٹرے بسنتے ہوری آئے وہ ہر جگہ ذلیل ہونے شروع ہوئے ، انہیں ماریں پڑیں اور خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوا۔عیسائیوں نے تو اپنی مُردہ خلافت کو آج تک سنبھالا ہوا ہے لیکن ان بد بختوں نے زندہ خلافت کو اپنے ہاتھوں گا ڑ دیا اور یہ محض عارضی خواہشات ، دنیوی ترقیات کی تمنا اور وقتی جوشوں کا نتیجہ تھا۔خدا تعالیٰ نے جو وعدے پہلے مسلمانوں سے کئے تھے وہ وعدے اب بھی ہیں۔اُس نے جب وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الذين من قبلهم " فرمایا تو الّذینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت فرمایا۔حضرت ابو بکر سے نہیں فرمایا۔حضرت عمرؓ سے نہیں فرمایا۔حضرت عثمان سے نہیں فرمایا۔حضرت علی سے نہیں فرمایا۔پھر اس کا کہیں ذکر نہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ صرف پہلے مسلمانوں سے کیا تھا یا پہلی صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا یا دوسری صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا بلکہ یہ وعدہ سارے مسلمانوں سے ہے چاہے وہ آج سے پہلے ہوئے ہوں یا ۲۰۰ یا ۴۰۰ سال کے بعد آئیں وہ جب بھی اُمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحت کے مصداق ہو جائیں گے ، وہ اپنی نفسانی خواہشات کو ماردیں گے ، وہ اسلام کی ترقی کو اپنا اصل مقصد بنالیں گے ،شخصیات ،