خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 285
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۵ جلد دوم جماعتوں ، پارٹیوں ، جتھوں ، شہروں اور ملکوں کو بھول جائیں گے تو ان کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ قائم رہے گا کہ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْرِهِمْ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے چاہے وہ عرب کے ہوں ، عراق کے ہوں ، شام کے ہوں ، مصر کے ہوں ، یورپ کے ہوں ، ایشیا کے ہوں ، امریکہ کے ہوں ، جزائر کے ہوں ، افریقہ کے ہوں کیا ہے کہ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ وہ انہیں اس دنیا میں اپنا نا ئب اور قائمقام مقر ر کرے گا۔اب اس دنیا میں شام، عرب اور نائیجیریا، کینیا ، ہندوستان ، چین اور انڈونیشیا ہی شامل نہیں بلکہ اور ممالک بھی ہیں پس اس سے مراد دنیا کے سب ممالک ہیں گویا وہ موعود خلافت ساری دنیا کے لئے ہے۔فرماتا ہے وہ تمہیں ساری دنیا میں خلیفہ مقرر کرے گا كما اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ اسی طرح جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ مقرر کیا۔اس آیت میں پہلے لوگوں کی مشابہت ارض میں نہیں بلکہ استخلاف میں ہے گویا فرما یا ہم انہیں اسی طرح خلیفہ مقرر کریں گے جس طرح ہم نے پہلوں کو خلیفہ مقرر کیا اور پھر اس قسم کے خلیفے مقرر کریں گے جن کا اثر تمام دنیا پر ہو گا۔پس اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کو یاد رکھو اور خلافت کے استحکام اور قیام کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہو۔تم نوجوان ہو ، تمہارے حوصلے بلند ہونے چاہئیں اور تمہاری عقلیں تیز ہونی چاہئیں تا کہ تم اس کشتی کو ڈوبنے اور غرق نہ ہونے دو۔تم وہ چٹان نہ بنو جو دریا کے رُخ کو پھیر دیتی ہے بلکہ تمہارا یہ کام ہے کہ تم وہ چینل (Channel) بن جاؤ جو پانی کو آسانی سے گزارتی ہے۔تم ایک ٹنل ہو جس کا یہ کام ہے کہ وہ فیضان الہی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ حاصل ہوا ہے تم اسے آگے چلاتے چلے جاؤ۔اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے تو تم ایک ایسی قوم بن جاؤ گے جو کبھی نہیں مرے گی۔اور اگر تم اس فیضانِ الہی کے رستہ میں روک بن گئے ، اس کے رستے میں پتھر بن کر کھڑے ہو گئے اور تم نے اپنی ذاتی خواہشات کے ماتحت اسے اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور قریبیوں کے لئے مخصوص کرنا چاہا تو یا درکھو وہ تمہاری قوم کی تباہی کا وقت ہو گا پھر تمہاری عمر کبھی لمبی نہیں ہوگی اور تم اس طرح مر جاؤ گے جس طرح پہلی تو میں مریں۔لیکن قرآن کریم یہ بتا تا ہے کہ قوم کی ترقی کا رستہ بند