خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 283
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۳ جلد دوم سے۔اس پر ابو قحافہ نے دوبارہ دریافت کیا وہ کس کا بیٹا ہے؟ پیغا مبر نے کہا۔ابو قحافہ کا بیٹا۔اس پر ابو قحافہ نے دوبارہ کلمہ پڑھا اور کہا آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے۔ابو قحافہ پہلے صرف نام کے طور پر مسلمان تھے لیکن اس واقعہ کے بعد انہوں نے سچے دل سے سمجھ لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعویٰ میں راستباز تھے کیونکہ حضرت ابو بکر کی خاندانی حیثیت ایسی نہ تھی کہ سارے عرب آپ کو مان لیتے یہ الہی دین تھی۔مگر بعد میں مسلمانوں کی ذہنیت ایسی بگڑی کہ انہوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ یہ فتوحات ہم نے اپنی طاقت سے حاصل کی ہیں۔کسی نے کہنا شروع کیا کہ عرب کی اصل طاقت بنو امیہ ہیں اس لئے خلافت کا حق ان کا ہے۔کسی نے کہا بنو ہاشم عرب کی اصل طاقت ہیں، کسی نے کہا بنو مطلب عرب کی اصل طاقت ہیں۔کسی نے کہا خلافت کے زیادہ حقدار انصار ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔گویا تھوڑے ہی سالوں میں مسلمان ماربڈ (Morbid) ہو گئے اور ان کے دماغ بگڑ گئے۔ان میں سے ہر قبیلہ نے یہ کوشش کی کہ وہ خلافت کو بزور حاصل کر لے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت ختم ہو گئی۔پھر مسلمانوں کے بگڑنے کا دوسرا سبب انار کی تھی۔اسلام نے سب میں مساوات کی روح پیدا کی تھی۔لیکن مسلمانوں نے یہ نہ سمجھا کہ مساوات پیدا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ایک آرگنا ئزیشن ہو اس کے بغیر مساوات قائم نہیں ہو سکتی۔اسلام آیا ہی اس لئے تھا کہ وہ ایک آرگنا ئزیشن اور ڈسپلن قائم کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تھی کہ یہ ڈسپلن ظالمانہ نہ ہو اور افراد اپنے نفسوں کو دبا کر رکھیں تا کہ قوم جیتے۔لیکن چند ہی سال میں مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ خزانے ہمارے ہیں اور اگر حکام نے ان کے راستہ میں کوئی روک ڈالی تو اُنہوں نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔یہ وہ روح تھی جس نے مسلمانوں کو خراب کیا۔انہیں یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ یہ حکومت الہیہ ہے اور اسے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اس لئے اسے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے کہ خلیفے ہم بنائیں گے لیکن مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلیفے ہم نے بنائے ہیں اور جب