خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 282

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۲ جلد دوم روس ایک بڑی طاقت تھی مگر وہ روس کے ساتھ ٹکرایا اور وہاں سے نا کام واپس لوٹا۔اس طرح انگلستان کو بھی فتح نہ کر سکا اور انجام اس کا یہ ہوا کہ وہ قید ہو گیا۔پھر دوسرا بڑا شخص ہٹلر آیا بلکہ دو بڑے آدمی دو ملکوں میں ہوئے۔ہٹلر اور مسولینی دونوں نے بے شک ترقیات حاصل کیں لیکن دونوں کا انجام شکست ہوا۔مسلمانوں میں سے جس نے یکدم بڑی حکومت حاصل کی وہ تیمور تھا۔اس کی بھی یہی حالت تھی وہ بے شک دنیا کے کناروں تک گیا لیکن وہ اپنے اس مقصد کو کہ ساری دنیا فتح کر لے پورا نہ کر سکا۔مثلاً وہ چین کو تابع کرنا چاہتا تھا لیکن تابع نہ کر سکا اور جب وہ مرنے لگا تو اُس نے کہا میرے سامنے انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر ہیں جو مجھے ملامت کر رہے ہیں۔پس صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی آدم سے لے کر اب تک ایسے گزرے ہیں جنہوں نے فردِ واحد سے ترقی کی۔تھوڑے سے عرصہ میں ہی سارے عرب کو تابع فرمان کر لیا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے ایک خلیفہ نے ایک بہت بڑی حکومت کو توڑ دیا اور باقی علاقے آپ کے دوسرے خلیفہ نے فتح کرلئے۔یہ تغیر جو واقع ہوا خدائی تھا کسی انسان کا کام نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مکہ میں پہنچی تو ایک مجلس میں حضرت ابو بکر کے والد ابوقحافہ بھی بیٹھے تھے۔جب پیغا مبر نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو سب لوگوں پر غم کی کیفیت طاری ہو گئی اور سب نے یہی سمجھا کہ اب ملکی حالات کے ماتحت اسلام پراگندہ ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ اب کیا ہوگا۔پیغا مبر نے کہا آپ کی وفات کے بعد حکومت قائم ہوگئی ہے اور ایک شخص کو خلیفہ بنالیا گیا ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ کون خلیفہ مقرر ہوا ہے؟ پیغا مبر نے کہا۔ابوبکر۔ابو قحافہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ کون ابوبکر ؟ کیونکہ وہ اپنے خاندان کی حیثیت کو سمجھتے تھے اور اس حیثیت کے لحاظ سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے بیٹے کو سارا عرب بادشاہ تسلیم کر لے گا۔پیغا مبر نے کہا ابو بکر جو فلاں قبیلہ سے ہے۔ابو قحافہ نے کہا وہ کس خاندان سے ہے؟ پیغا مبر نے کہا فلاں خاندان