خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 281

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۱ جلد دوم چند سو آدمی آپ پر ایمان لائے۔۱۳ سال کے بعد آپ نے ہجرت کی اور ہجرت کے آٹھویں سال سارا عرب ایک نظام کے ماتحت آ گیا اور اس کے بعد اُسے ایک ایسی طاقت اور قوت حاصل ہو گئی کہ اس سے بڑی بڑی حکومتیں ڈرنے لگیں۔اُس وقت دنیا حکومت کے لحاظ سے دو بڑے حصوں میں منقسم تھی۔اول رومی سلطنت۔دوم ایرانی سلطنت۔رومی سلطنت کے ماتحت مشرقی یورپ ، ٹرکی سينيا ، يونان، مصر، شام اور اناطولیہ تھا اور ایرانی سلطنت کے ماتحت عراق، ایران ، رشین ٹری ٹوری کے بہت سے علاقے ، افغانستان، ہندوستان کے بعض علاقے اور چین کے بعض علاقے تھے۔اُس وقت یہی دو بڑی حکومتیں تھیں۔ان کے سامنے عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن ہجرت کے آٹھویں سال بعد سا را عرب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو گیا۔اس کے بعد جب سرحدوں پر عیسائی قبائل نے شرارت کی تو پہلے آپ خود وہاں تشریف لے گئے۔اس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے فتنہ ٹل گیا لیکن تھوڑے عرصہ بعد قبائل نے پھر شرارت شروع کی تو آپ نے ان کی سرکوبی کے لئے لشکر بھجوایا۔اس لشکر نے بہت سے قبائل کو سرزنش کی اور بہتوں کو معاہدہ سے تابع کیا۔پھر آپ کی وفات کے بعد اڑھائی سال کے عرصہ میں سارا عرب اسلامی حکومت کے ماتحت آ گیا بلکہ یہ حکومت عرب سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنی شروع ہوئی۔فتح مکہ کے پانچ سال کے بعد ایرانی حکومت پر حملہ ہو گیا تھا اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا تھا اور چند سالوں میں رومی سلطنت اور دوسری سب حکومتیں تباہ ہو گئی تھیں۔اتنی بڑی فتح اور اتنے عظیم الشان تغیر کی مثال تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی۔تاریخ میں صرف نپولین کی ایک مثال ملتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو تعداد اور قوت میں اس سے زیادہ ہو۔جرمن کا ملک تھا مگر وہ اُس وقت ۱۴ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا۔اس طرح اس کی تمام طاقت منتشر تھی۔ایک مشہور امریکن پریذیڈنٹ سے کسی نے پوچھا کہ جرمن کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ تو اس نے کہا ایک شیر ہے دو تین لومڑ ہیں اور کچھ چوہے ہیں۔شیر سے مراد رشیا تھا ، لومڑ سے مراد دوسری حکومتیں اور چوہوں سے مراد جرمن تھے گویا جرمن اُس وقت ٹکڑے ٹکڑے تھا۔