خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 280

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۰ جلد دوم باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے عظیم الشان احسانات ان پر تھے اعلیٰ تمدن اور بہترین اقتصادی تعلیم انہیں دی گئی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا پھر بھی وہ گر گئے اور ان کی حالت خراب ہو گئی۔یہ نوٹ انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جو انگریزی لکھی ہوئی تھی وہ بائیں طرف سے دائیں طرف کو نہیں لکھی ہوئی تھی بلکہ دائیں طرف سے بائیں طرف کو لکھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی میں اسے پڑھ رہا تھا۔گو وہ خراب کی لکھی ہوئی تھی اور الفاظ واضح نہیں تھے بہر حال کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا تھا اس میں ایک فقرہ کے الفاظ قریباً یہ تھے کہ There were two reasons for it۔There temperment becoming (1) Morbid and (2) Anorchical یہ فقرہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں پر کیوں تباہی آئی۔اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ خرابی جو مسلمانوں میں پیدا ہوئی اُس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی طبائع میں دو قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں ایک یہ کہ وہ مار ڈ (Morbid) ہو گئے تھے یعنی ان نیچرل (Unnatural) نا خوشگوار ہو گئے تھے اور دوسرے ان کی ٹنڈ نسیز (Tendancies) انارکیکل (Anarchical) ہو گئی تھیں۔میں نے سوچا کہ واقعہ میں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔مسلمانوں نے یہ تباہی خود اپنے ہاتھوں مول لی تھی۔مار بڈ (Morbid) کے لحاظ سے یہ تباہی اس لئے واقع ہوئی کہ جو ترقیات اُنہیں ملیں وہ اسلام کی خاطر ملی تھیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت ملی تھیں ان کی ذاتی کمائی نہیں تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے اور مکہ والوں کی ایسی حالت تھی کہ لوگوں میں اُنہیں کوئی عزت حاصل نہیں تھی لوگ صرف مجاور سمجھ کر ادب کیا کرتے تھے اور جب وہ غیر قوموں میں جاتے تھے تو وہ بھی ان کی مجاور یا زیادہ سے زیادہ تاجر سمجھ کر عزت کرتی تھیں وہ انہیں کوئی حکومت قرار نہیں دیتی تھیں۔اور پھر ان کی حیثیت اتنی کم سمجھی جاتی تھی کہ دوسری حکومتیں ان سے جبراً ٹیکس وصول کرنا جائز سمجھتی تھیں۔جیسے یمن کے بادشاہ نے مکہ پر حملہ کیا جس کا قرآن کریم نے اصحاب الفیل کے نام سے ذکر کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو تیرہ سال تک آپ مکہ میں رہے۔اس عرصہ میں