خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 277

خلافة على منهاج النبوة ۲۷۷ جلد دوم مسئلہ خلافت (۲۵/ اکتو بر ۱۹۵۳ء کو خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ ربوہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مسئلہ خلافت کے موضوع پر تقریر فرمائی) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔میں گل تھوڑی دیر ہی بولا تھا لیکن گھر جاتے ہی میری طبیعت خراب ہوگئی اور سارا دن پسینے آتے رہے آج بھی گلے میں تکلیف ہے کھانسی آ رہی ہے بخار ہے اور جسم ٹوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے میں شاید کل جتنا بھی نہ بول سکوں لیکن چونکہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کا یہ آخری اجلاس ہے اس لئے چند منٹ کے لئے یہاں آ گیا ہوں۔چند منٹ بات کر کے میں چلا جاؤں گا اور اس کے بعد باقی پروگرام جاری رہے گا۔انسان دنیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں کوئی انسان ایسا نہیں ہوا جو ہمیشہ زندہ رہا ہو لیکن قو میں اگر چاہیں تو وہ ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں یہی امید دلانے کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ :۔میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے“ لے اس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے لوگوں کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ چونکہ ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے اس لئے میں بھی تم سے ایک دن جدا ہو جاؤں گا لیکن اگر تم چا ہو تو تم ابد تک زندہ رہ سکتے ہو۔انسان اگر چاہے بھی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا لیکن قو میں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر وہ زندہ نہ رہنا چاہیں تو مر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ:۔تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا