خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 274
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۴ جلد دوم خلافت راشدہ کے سات امتیازات ( تحریر فرموده مئی ۱۹۵۲ء) ۱۹۵۲ء میں الفرقان کے خلافت نمبر کی اشاعت کے لئے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے حضور سے استفسار کیا کہ اسلامی خلافت راشدہ کی وہ کونسی علامتیں ہیں جن سے وہ ممتاز ہوتی ہے اور اس میں اور باقی تمام اقسام اقتدار، ملوکیت وغیرہ میں کھلے طور پر فرق کیا جاسکتا ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا :۔اسلام میں خلافت راشدہ کے مجموعی امتیازات سات ہیں۔اول : انتخاب۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إلى آفلما۔یہاں امانت کا لفظ ہے لیکن ذکر چونکہ حکومت کا ہے اس لئے امانت سے مرا د امانت حکومت ہے آگے طریق انتخاب مسلمانوں پر چھوڑ دیا۔چونکہ خلافت اُس وقت سیاسی تھی مگر اس کے ساتھ مذہبی بھی۔اس لئے دین کے قائم ہونے تک اُس وقت کے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انتخاب صحابہ کریں کہ وہ دین اور دیندار کو بہتر سمجھتے تھے ورنہ ہر زمانہ کے لئے طریق انتخاب الگ ہوسکتا ہے۔اگر خلافت صحابہ کے بعد چلتی تو اس پر بھی غور ہو جاتا کہ صحابہ کے بعد انتخاب کس طرح ہوا کرے۔بہر حال خلافت انتخابی ہے اور انتخاب کے طریق کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر چھوڑ دیا ہے۔دوم شریعت۔خلیفہ پر اوپر سے شریعت کا دباؤ ہے وہ مشورہ کو رڈ کر سکتا ہے مگر شریعت کو رڈ نہیں کر سکتا گویا وہ کانسٹی ٹیوشنل ہیڈ ہے ، آزاد نہیں۔سوم : شوری۔اوپر کے دباؤ کے علاوہ نیچے کا دباؤ بھی اُس پر ہے یعنی اسے تمام اہم امور