خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 268

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۸ جلد دوم ساتھ دیتے رہے اور مولوی صاحب کو بھی مجبور کرتے رہے کہ وہ لاہوریوں کا ساتھ دیں۔جب وہ ابتلاء کے کچھ عرصہ بعد قادیان میں مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو صاف کہا کہ میں مجبور ہوں فالج نے قومی مار دیئے ہیں میں طہارت تک خود نہیں کر سکتا ان لوگوں کو وعدہ دے کر لاہوریوں نے بگاڑ رکھا ہے اور میں ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر یعقوب اور اُس کی والدہ کو سنبھال لیا جائے تو میں بھی رہ سکوں گا مگر چونکہ میں اس قسم کی رشوت دینے کا عادی نہیں میں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔مجھے اکثر ایسے لوگوں کی حالت پر حیرت آتی ہے کہ ذرا ان کو سلسلہ سے کوئی شکایت پیدا ہو تو انہیں خلافت کے مسئلہ میں بھی شک پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔گجرات کے دوستوں نے سنایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تو ایک اہل حدیث مولوی نے ہمیں کہا اب تم لوگ قابو آئے ہو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہے اور تم میں خلافت نہیں ہو گی تم لوگ انگریزی دان ہو اس لئے خلافت کی طرف تم نہیں جاؤ گے۔وہ دوست بتاتے ہیں کہ دوسرے دن تار موصول ہوئی کہ جماعت نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کر لی ہے اور ان کو اپنا خلیفہ بنا لیا ہے۔جب احمدیوں نے اُس مولوی کو بتایا تو کہنے لگا نورالدین بڑا پڑھا لکھا آدمی تھا اِس لئے اُس نے جماعت میں خلافت قائم کر دی اگر اس کے بعد خلافت رہی تو پھر دیکھیں گے۔جب حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے تو کہنے لگا اُس وقت اور بات تھی اب کوئی خلیفہ بنے گا تو دیکھیں گے۔دوست بتاتے ہیں کہ اگلے دن تا رپہنچ گئی کہ جماعت نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔اس پر کہنے لگا یار وتم بڑے عجیب ہو، تمہارا (انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۲۳۳ تا ۲۵۲) کوئی پتہ نہیں لگتا۔“ الذريت: ۵۴ جمان: برہمنوں یا نائیوں کی آسامی جس کا وہ پشتوں سے کام کرتے آ رہے ہوں۔مخدوم، آقا ، مربی (فیروز اللغات اردو جا مع صفحه ۴ ۴۵ مطبوعہ فیروز سنز لا ہور ۲۰۱۰ء) کنز العمال جلدا اصفحه ۱۱۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۸ء