خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 266

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۶ جلد دوم چور کی یہ حرکت دیکھ کر ہنسی آنے لگی کہ ہمیں تو کھانے کو نہیں ملتا اور یہ سوٹیاں مار مار کر خزانہ تلاش کر رہا ہے۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُس نے ہنس کر چور سے کہا۔”جمان ! سانوں ایتھے دن نوں کچھ نہیں لبھدا۔تہانوں راتیں کی لکھنا ہے“۔یعنی ہمیں یہاں دن کو کوئی چیز نہیں ملتی آپ کو رات کے وقت یہاں کیا ملے گا۔یہی حالت مخالفین کی ہے سچ کے مقابلہ میں سوائے جھوٹ کے کوئی اور چیز ہو تو وہ پیش کریں اور سچ کے مقابلہ میں سچ کہاں سے لائیں۔مقابلہ کے دو ہی طریق ہیں ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کا بندہ جب کہتا ہے کہ میں نشان دکھاتا ہوں تو دشمن بھی کہیں کہ ہم بھی ویسا ہی نشان دکھاتے ہیں لیکن چونکہ وہ اس بات پر قادر نہیں ہوتے اس لئے نشان کے مقابل پر نشان دکھانے کے لئے سامنے نہیں آتے۔ہاں دوسرا طریق یہ ہے کہ آئیں بائیں شائیں کرتے اور خوب شور وشغب پیدا کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم خوب مقابلہ کر رہے ہیں اور یہی طریق ہمیشہ انبیاء اور خدا تعالیٰ کے دوسرے خادموں کے دشمن اختیار کیا کرتے ہیں۔جب سے میں نے مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا ہے مولوی محمد علی صاحب نے ویسے ہی اعتراض کرنے شروع کر دیئے ہیں جیسے مولوی ثناء اللہ صاحب کیا کرتے تھے۔میں خواب یا الہام سنا تا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے اعلام کی بناء پر اعلان کرتا ہوں لیکن مولوی محمد علی صاحب نہ تو مقابل پر کوئی خواب یا الہام پیش کرتے ہیں اور نہ ہی وہ پیش کر سکتے ہیں کیونکہ وہ سارا زور لگا کر تمہیں سالہ پرانا ایک الہام پیش کر سکے ہیں مگر وہ بھی واقعات کے رو سے غلط نکلا ہے۔پس جب الہام ہوا ہی نہیں تو وہ الہام پیش کیسے کریں۔اب سوائے اعتراضوں کے ان کے پاس کوئی چیز نہیں اگر وہ اعتراض بھی نہ کریں تو مقابلہ کس طرح کریں۔حضرت ابرا ہیم، حضرت موسی ، حضرت عیسی کے دشمن اس بات کا تو انکار نہیں کر سکتے تھے کہ الہام ہوتا ہی نہیں کیونکہ ان سے پہلے انبیاء کو الہام ہوتا تھا اور وہ اس بات کے قائل تھے اس لئے ان انبیاء کا انکار کرنے والے اس بات کا انکار نہ کر سکتے تھے کہ الہام کوئی چیز نہیں۔اپنی بات کو درست ثابت کرنے کیلئے اور ان انبیاء کا مقابلہ کرنے کیلئے یہ کہتے تھے کہ ان کے الہام خود ساختہ ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں نے بھی یہی کہا کہ ان کے