خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 261

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۱ جلد دوم اور اس اصول کو دنیا کے سامنے دُہرانا پڑتا ہے اور خدا کی طرف سے آنے والا لوگوں کے اس اصول کو بھول جانے کی وجہ سے لوگوں سے گالیاں سنتا ہے اور ذاتیں برداشت کرتا ہے۔اس کے اپنے اور بیگانے ، دوست اور دشمن سب مخالف ہو جاتے ہیں اور قریبی رشتہ دارسب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار پاس کے مکانوں میں نئے آنے والوں کو روکنے کے لئے بیٹھے رہتے تھے اور جب کوئی شخص مسلمانوں کے پاس آتا تو وہ رستہ میں اسے روک لیتے اور سمجھاتے کہ یہ شخص ہمارے رشتہ داروں میں سے ہے ہم اس کے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس کو نہیں مانتے کیونکہ ہم لوگ جانتے ہیں کہ سوائے جھوٹ کے اور کوئی بات نہیں۔ہم آپ لوگوں سے اس کو زیادہ جانتے ہیں ہم سے زیادہ آپ کو واقفیت نہیں ہو سکتی ہم اس کے ہر ایک راز سے واقف ہیں بہتر ہے کہ آپ یہیں سے واپس چلے جائیں اسی میں آپ کا فائدہ ہے۔یہی حال ہم نے ان کا دیکھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ دار تھے۔ان کی باتوں کوسن کر جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف کیا کرتے اور ان کی حرکات کو دیکھ کر جو وہ باہر سے آنے والوں کو روکنے کے لئے کرتے انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ ان کی باتوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کی باتوں میں کس قدر مشابہت ہے۔مرزا امام الدین سارا دن اپنے مکان کے سامنے بیٹھے رہتے۔دن رات بھنگ گھٹا کرتی اور کچھ وظائف بھی ہوتے رہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ کر اُنہوں نے پیری مریدی کا سلسلہ شروع کر لیا تھا۔جب کوئی نیا احمدی باہر سے آتا یا کوئی ایسا آدمی جو احمدی تو نہ ہوتا نہ ہوتا لیکن تحقیق کے لئے قادیان آتا تو اُس کو بلا کر اپنے پاس بیٹھا لیتے اور اُسے سمجھانا شروع کر دیتے۔میاں تم کہاں اس کے دھوکا میں آگئے یہ تو محض فریب اور دھو کا ہے اگر حق ہوتا تو ہم لوگ جو کہ بہت قریبی رشتہ دار ہیں کیوں پیچھے رہتے۔ہمارا اور مرزا صاحب کا خون ایک ہے تم خود سوچو بھلا خون بھی کبھی دشمن ہو سکتا ہے۔اگر ہم لوگ انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ شخص صحیح