خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 260
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۰ جلد دوم طرف سے الہام کی گئی ہیں محض باتیں ہی باتیں ہیں ان میں حقیقت کچھ بھی نہیں بلکہ یہ قصے آدم اور نوح اور ابراہیم کے منہ سے کہلوا دیئے گئے ہیں۔اگر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ نہ ملا ہوتا اور کوئی اس بات کا ثبوت ہم سے مانگتا تو ہمیں مشکل پیش آتی لیکن اس علم کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بعینہ وہی باتیں کہی گئیں جو جہالت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے کہی تھیں اور وہی اعتراض آپ پر کئے گئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں نے آپ پر کئے تھے۔اس سے ہم نے یقین کر لیا اور ہمارے لئے شک کی کوئی گنجائش نہ رہی کہ واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن وہی باتیں کہتے ہو نگے جو حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے دشمن کہتے تھے کیونکہ آج ۱۳۰۰ سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن آپ پر وہی اعتراض کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کے دشمنوں نے کئے اور ان میں اتنی مطابقت اور مشابہت ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن جب آپ پر اعتراض کرتے تو آپ فرماتے یہی اعتراض آج سے ۱۳۰۰ سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے مخالفین نے کئے تھے جب وہ باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قابل اعتراض نہ تھیں بلکہ آپ کی صداقت کی دلیل تھیں تو وہ میرے لئے کیوں قابلِ اعتراض بن گئی ہیں۔پس جو جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دیا وہی جواب میں تمہیں دیتا ہوں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جواب میں یہ طریق اختیار فرماتے اور لوگوں پر اس طریق سے حجت قائم کرتے تو مخالفین شور مچاتے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برابری کرتا ہے حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ جو اعتراض ابو جہل کرتا تھا جو شخص اُن اعتراضوں کو دُہراتا ہے وہ مثیل ابو جہل ہے اور جس شخص پر وہ اعتراض کئے جاتے ہیں وہ مثیلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔پس ہر زمانہ میں مومنوں اور کافروں کی پہلے مومنوں اور کافروں سے مشابہت ہوتی چلی آئی ہے لیکن دنیا ہمیشہ اس بات کو بھول جاتی ہے اور جب کبھی نیا دور آتا ہے تو نئے سرے سے لوگوں کو یہ سبق دینا پڑتا ہے