خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 259
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۹ جلد دوم نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں ( تقریر ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۵ء بر موقع جلسه سالانه ) تشہد ،تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔انسانی زندگی ایک دور بلکہ چندا دوار کا نام ہے ایک دور چل کر ختم ہوتا ہے تو ایک اور دور چل پڑتا ہے وہ ختم ہوتا ہے تو پھر ایک اور دور ویسا ہی چل پڑتا ہے۔جیسے رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے اسی طرح ایک دور کے بعد دوسرا چلتا چلا جاتا ہے اور الہی منشا اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے دور ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان ادوار کے لوگ ایک دوسرے کی نقلیں کر رہے ہیں۔مومنوں کی باتیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے پہلے مومنوں کی اور کافروں کی باتیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسی پہلے کافروں کی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حیرت کا اظہار فرماتا ہے کہ اتوا صوابه بَلْ هُمْ قَوْم طَاغُونَ ے ان کا فروں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہی باتیں کہتے ہیں جو پہلے نبیوں کو ان کے نہ ماننے والوں نے کہیں اور کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو نئی ہو اور پہلے انبیاء کو ان کے مخالفوں نے نہ کہی ہو۔عیسائی اور یہودی مصنفین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں کیا علم ہے کہ پہلے انبیاء کے دشمنوں نے وہی اعتراض اپنے وقت کے نبیوں پر کئے تھے یا نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے گئے۔اور ہمارے پاس کیا ثبوت ہے اس بات کا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ آدم کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے ، نوح کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے ، ابراہیم کے دشمنوں نے بھی یہی اعتراض کئے تھے۔یہ کہنا کہ یہ خبریں آپ کو اللہ تعالیٰ کی