خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 255

خلافة على منهاج النبوة ۲۵۵ جلد دوم خلیفہ کی زندگی میں کسی اور کے خلیفہ ہونے کا ذکر کرنا گناہ ہے حضور انور نے ۲۷ / اکتوبر ۱۹۴۵ء کو نماز عصر کے بعد نو تعمیر شدہ فضل عمر ہوٹل واقع دارالعلوم کا افتتاح کرتے ہوئے تقریر فرمائی۔اس میں جماعت کے۱۹۱۴ء کے حالات کا ذکر کیا اور احباب جماعت کو ابتدائی صحابہ اور مبائعین جیسا ایمان پیدا کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ بھی دلائی اور یہ نکتہ بھی بیان فرمایا کہ خلیفہ کی زندگی میں دوسرے خلیفہ کا ذکر کرنا وو گناہ ہے فرمایا :۔سب سے عجیب واقعہ میں آپ لوگو کو سناؤں۔حضرت خلیفہ اسی الاول کی وفات سے چند دن پہلے ایک پروفیسر تھا جو ایم۔اے تھا۔میرا گہرا دوست اور حضرت خلیفہ اسیح الا قول کا مقبول شاگر د۔اُس کے والد سے جو جموں میں حج تھا حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی ذاتی دوستی تھی۔وہ خود بھی احمدیت میں اخلاص رکھتا تھا اور میرا دوست ہونے کی وجہ سے میرا ہم سبق بھی بن جایا کرتا تھا اور حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔جب اسے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی بیماری کی اطلاع پہنچی تو وہ یہاں آیا اور تین چار روز یہاں رہا۔مسجد مبارک میں آنے کے لئے ہمارے گھر کا ایک دروازہ ہوتا تھا جو سیٹرھیوں کے اندر کھلتا تھا ایک دن اُس پر آکر اُس نے دستک دی اور میں باہر نکلا۔اُس نے میرا ہاتھ نہایت گرم جوشی سے پکڑ لیا اور رقت سے اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اُس نے کہا مجھے اور چھٹی نہیں مل سکتی اس لئے میں واپس علی گڑھ جا رہا ہوں آپ اس مصافحہ کو میری بیعت سمجھیں۔میں نے کہا (اس کا نام تیمور تھا۔اور اب ایک کالج کا وائس پرنسپل ہے ) تیمور !