خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 253
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۳ جلد دوم لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہے مگر ہم کہتے وہی ہیں جس کا ہمیں خدا نے حکم دیا۔تو جہاں انسان کو دنیا میں کئی قسم کی خوشیاں حاصل ہوتی ہیں وہاں اُسے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سب خوشیاں عارضی ہیں۔اُسے وہ حقیقی تعلق استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو موت کو مٹا دے۔موت اُسی صورت میں موت ہے جب انسان یہ سمجھتا ہو کہ میں ایک ایسی چیز سے محروم کیا گیا ہوں جس کا کوئی قائم مقام نہیں۔روحانیت میں چونکہ انسان کا اصل تعلق خدا سے ہوتا ہے اور اس تعلق میں انقطاع واقع نہیں ہو سکتا جب تک کوئی شیطان سے تعلق پیدا نہ کر لے۔اس لئے کسی کی موت اُسے اپنے محبوب سے جدا نہیں کر سکتی۔اس طرح اگر جسمانی طور پر اُس کے عزیزوں اور رشتہ داروں میں سے بعض لوگ مر جاتے ہیں تو مایوسی اُس پر طاری نہیں ہوتی کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ جدائی عارضی ہے اور ایک دن آنے والا ہے جب ہم پھر ایک دوسرے سے مل جائیں گے لیکن جب انسان کا خدا سے تعلق نہیں ہوتا تو ہر موت ، ہر جدائی اور ہر تفرقہ اُسے دائمی معلوم ہوتا ہے اور وہ اُس کے دل کو ہمیشہ کیلئے مایوسی اور تاریکی میں مبتلا کر دیتا انوار العلوم جلد ۷ اصفحہ ۳۵۷ تا ۳۶۷) المؤمن: ۳۵ ل السيرة الحلبية الجزء الثالث صفحه ۶۱۵ باب ما يذكر في مدة مرضه مطبوعه بيروت لبنان ۲۰۱۲ء شرح دیوان حسان بن ثابت صفحه ۲۲۱ مطبوعه آرام باغ کراچی الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۵ ایڈیشن ۲۰۰۸ء صلى الله بخاری کتاب الجنائز باب قول النبى عله انا بك لمحزونون صفحه ۲۰۹،۲۰۸ حدیث نمبر ۱۳۰۳ مطبوعہ ریاض ۱۹۹۹ء الطبعة الثانية